کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں!
سوال نمبر (1)ہم کل پانچ بہن بھائی ہیں , تین بہنیں اور دو بھائی،ہمارے والد کی وراثت :ایک مکان گاؤں میں، دو الگ مکان کراچی میں , دو الگ الگ مکان کرائے پر اور چھ شیڈ 160 گز کے کرائے پر دیے ہوئے ہیں اور کچھ رقم بینک میں بھی ہے، سوال یہ ہے کہ وراثت کی تقسیم ہمارے درمیان زمین کے گزوں کے حساب سے ہوگی ،قیمت کے لحاظ سے ہوگی یا شیڈوں کے لحاظ سے ہوگی یا وارثوں کی مرضی سے جو جس پر راضی ہو جائے ؟ اور اگر ایک ہی جگہ دو یا اس سے زیادہ وارثوں کو پسند آجائے تو ان کے لئے کیا قرعہ اندازی ہوگی یا اور کوئی طریقہ ہوگا ؟
سوال نمبر (2) جو وراثت ہے یہ کلی طور پر ہمارے والد کی نہیں ہے، میں چونکہ وارثوں میں سب سے بڑا بھائی ہوں اوردرمیان میں تین بہنیں ہیں اور ایک سب سے چھوٹا بھائی ہے ،میرے والد نے آج سے 32 سال پہلے مجھے کچھ رقم دی کاروبار کے لئے ،شروع میں کام نہ چلا تو مجھے مزید رقم دینے سے انکار کر دیا گیا، میں نے قرض لے کر اس کام کو چلانے کی کوشش کی اللہ پاک کی مدد سے کام چل گیا، اور آہستہ آہستہ مجھے معقول آمدنی ہونے لگی، جس سے میں نے وہ قرض بھی اتارا اور والدین کو بھی دینے لگا اور جب معقول رقم جمع ہو جاتی اور اس میں مزید رقم والد کی لگا کر ہم خود پلاٹ کی جو جگہ بچی ہوتی اس پر تعمیر کر لیتے ،اس ترتیب سے ہم نے اپنے کاروبار کی تمام جگہ تعمیر کر کے کرائے پر دے دی، جس سے مزید کرایہ آنے لگا، اور یہ تمام کرایہ اور میں اپنی محنت کی کمائی والدہ کو دینے لگا، اس طرح والدین نے جو رقم مجھے کاروبار کے لئے دی تھی اس سے کئی گنا زیادہ میں نے والدین کو لوٹا دی، اور 10 سال کام چلانے کے بعد میں نے اپنی مشینری فروخت کر دی ،اور اس کی تمام رقم بھی والدین کو واپس کر دی، جس سے ہمارا ایک گھر تعمیر ہوا،جس میں میرے والدین اور چھوٹا بھائی رہتے تھے، اس تمام صورت حال میں سوال یہ ہے کہ یہ جو کرایہ آتا تھا وہ تمام والدین اور میرے چھوٹے بھائی پر خرچ ہوتا تھا ،اور جو دس سال میں نے کام کیا چلایا اس میں بھی مجھے ایک روپیہ نہیں ملا، اور آج تک جو کرایہ آیا ہے اس میں بھی کچھ نہیں ملا ،کیا میں کرایہ کی رقم میں سے کچھ رقم لے سکتا ہوں؟ اور کیا تقسیم میں مجھے کچھ حصہ زیادہ ملے گا یا سب کے برابر ؟کیا ان دس سالوں کا مجھے حساب لینے کا حق ہے ؟جبکہ میرے کام میں تمام محنت میں نے کی، میرے والد یا میرے بھائی کا کوئی حصہ نہیں ہے اور جو میں نے کمایا وہ بھی تمام کاروبار میں اور گھر پر لگادیا۔
نوٹ: سائل نے والدین کو رقم دیتے وقت کسی قسم کی قرض یا واپسی کی صراحت نہیں کی، پہلے والدہ کا انتقال ہوا ،پھر والد کا،والد کے ورثا میں دو بیٹے ،اور تین بیٹیاں موجود ہیں۔
سائل نے والدین مرحومین کو رقم دیتے وقت یا تعمیر کرتےوقت قرض کی یا واپسی کی صراحت نہیں کی تھی تو یہ سائل کی طرف سے اپنے والدین مرحومین کے ساتھ تبرع و احسان شمار ہوگا،لہذا سائل کے لئے ترکہ میں سے اپنے حصہ کے علاوہ الگ سے کسی چیز کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں،جس سے احترازلازم ہے،جبکہ والدین کا ترکہ تمام ورثاء میں حسبِ حصص شرعیہ تقسیم ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحوم والدین کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے ، مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کر یں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل سات (7) حصے کیے جائیں، جن میں سے ہر بیٹے کو دو(2) حصے، جبکہ ہر ایک بیٹی کو ایک(1) حصہ دیا جائے -
کما فی رد المحتار: مطلب: اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية (الی قولہ) ثم هذا في غير الابن مع أبيه: لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له الخ ( ج4،ص 325،ط: سعید)۔
وفی تنقیح الحامدیۃ: المتبرع لا يرجع بما تبرع به على غيره كما لو قضى دين غيره بغير أمره الخ (ج 2، ص 226 ، ط: دار المعرفة)۔
و فی دررالحکام فی شرح مجلۃ الاحکام: تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما الخ(المادہ1073،ج3،ص26،ط:دار الجیل)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1