کیا شربت چائے کے قہوے سے طہارت حاصل کی جاسکتی ہے اگر اس وقت دوسرا پانی موجود نہ ہو؟کیونکہ دونوں ہی پانی سے بنے ہیں یاکہ اس صورت حال میں تیمم کرنا افضل ہوگا؟حدیث کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ جس پانی میں کوئی اور چیز اس طور پر شامل کی جائے کہ عام بول چال میں اسے پانی سے تعبیر نہ کیا جاتاہو،بلکہ اسے کوئی اور نام جیسے قہوہ،شربت وغیرہ کہا اور بولا جاتاہو،تو شرعاً اس طرح کا پانی" ماءِ مطلق "کے حکم میں نہیں رہتا، اس لئے اس سے وضو اور غسل کرنا جائز نہیں ، لہذا اگر کسی وقت مطلق پانی میسر نی نہ ہو اور نہ قرب و جوار میں اس کے ملنے کی امید ہو،یا میسر تو ہومگر بیماری وغیرہ کی وجہ سے اس کے استعمال کی قدرت نہ ہو،توایسی صورت میں شربت یا قہوہ سے وضوکرنے کےبجائے تیمم کرنا لازم ہوگا۔
کما فی الھدایۃ:(و لا یجوز بماء غلب علیہ غیرہ فاخرجہ عن طبع الماء کا لاشربۃ و النحل و ماء الورد و ماء الباقلی و المرق و ماء الزردج)لأنہ لا یسمی ماء مطلقا و المراد بماء الباقلی ما تغیر بالطبخ فان تغیر بدون الطبخ یجوز التوضی بہ الخ(کتاب الطہارۃ،باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و مالا یجوز، ج: 1، ص: 34، ط:کتب خانہ مجیدیہ)۔
کما فی الدر المختار(و لا یجوز بماء)بالمد(زال طبعہ) و ھو السیلان و الإرواء و الإنبات (بسبب طبع کمرق)و ماء باقلاء إلا بماء قصدبہ التنظیف کأشنان و صابون فیجوز إن بقی رقتہ الخ
و فی رد المحتار تحت قولہ: (قولہ زال طبعہ )أی و صفہ الذی خلقہ اللہ تعالیٰ علیہ (قولہ و الانبات)اقتصر الوانی علیہ لا ستلزامہ إرواء دون العکس فان الأشربۃ تروی و لا تنبت و الماء الملح طبعہ الإنبات إلا أنہ عدم منہ لعارض کالماء الحار (قولہ بسبب طبح )أی بغیرہ فمجرد تسخین الماء بدون خلط لایسمی طبخا عن ابی السعود:أی لأن الطخ ھو الانضاج استواء قاموس الخ(کتاب الطہارۃ ،باب المیاہ، ج: 1، ص: 197 ،ط:ایچ ایم سعید)۔
و فی الھندیۃ: لا یجوز التوضی بماء البطیخ و القثاء و القتد و لا بماء الورد و لا بشیء من الا شربۃ و لا بغیرھا من المائعات نحو الخل ھکذا فی فتاوٰی قاضیخان الخ (کتاب الطہارۃ،فصل فیما لا یجوز بہ التوضوء ج: 1، ص 21، ط:ماجدیہ)۔