کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے بہنوئی شہزادہ کا انتقال ہو گیا ،ان کی دو بیویاں ہیں،میری بہن سے ان کا عقدِ ثانی ہوا ،جس میں حق مہر کے طور پر ایک مکان دو کمرے ،پانچ تولہ سونا دیے گئے ،جسے بعد میں بیچ کر اور اپنی طرف سے ایک ہائی روف وین اور ایک دوسرا مکان فروخت کر کے اس کی رقم ساتھ شامل کر کے ایک مکان خریدا گیا اور اسے میری بہن کو بطورحق مہر دینے کا اعلان کیا گیا ،اگرچہ اس مکان کے پیپر اور تصرفات انتقال کے وقت تک میرے بہنوئی کے پاس رہے، ان کے انتقال کے بعد ان کی زوجۂ اول سے تولد اولاد اس مکان میں وراثت کی دعویدار بن کر کھڑی ہو گئی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ہمارے والد نے اس مکان میں اپنی گاڑی اور دوسرا مکان فروخت کر کے شامل کیا تھا ،اس لئے اس مکان میں ہمارا حصہ بنتا ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا ازروئے شرع اس مکان میں ان کا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟ کیا یہ مکان صرف ہماری بہن کو ملے گا یا بطورِ وراثت ان کے تمام ورثاء میں تقسیم ہوگا؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیاہو، اس طور پرکہ سائل کے مرحوم بہنوئی نے حقِ مہر میں دئیے گئے گھر کو بیچ کر اور اپنی دیگر اشیاء بھی بیچ کر حاصل شدہ رقم سے مذکور گھر خرید کر سائل کی مذکور بہن کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ حوالہ کردیا تھا اور لوگوں کے سامنے اس کا اعلان بھی کرلیا تھا، تو سائل کی بہن مذکور مکان کی مالک بن چکی تھی ،اگر چہ کاغذات میں شوہر کانام درج تھا،لہذا مرحوم شوہرکی اولاد کا مذکورمکان میں حصہ داری کا دعوی درست نہیں، جس سے انہیں احتراز لازم ہے ۔
تاہم اگرسوال کی نوعیت مختلف ہوتو مکرر سوال لکھ دوبارہ جمع کرادیں ان شاء اللہ غور وفکر کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کردیا جائیگا۔
کمافی الفتاوى الهندية: الزيادة في المهر صحيحة حال قيام النكاح عند علمائنا الثلاثة، كذا في المحيط. فإذا زادها في المهر بعد العقد لزمته الزيادة، كذا في السراج الوهاج. هذا إذا قبلت المرأة الزيادة سواء كانت من جنس المهر أو لا من زوج أو من ولي، كذا في النهر الفائق اھ(ج1 ص312 کتاب النکاح ط: ماجدیۃ)۔
وفی رد المحتار تحت: (قوله لأن زيادة المهر) تعليل لما استفيد من التقييد بالأصل، وهو أن المهر لو زاد بعد القبض لا تضمن الزيادة، لكن في المسألة تفصيل لأن الزيادة في المهر إما متصلة متولدة من الأصل كسمن الجارية وجمالها وإثمار الشجر أو غير متولدة كصبغ الثوب والبناء في الدار أو منفصلة متولدة كالولد والثمر إذا جذ أو غير متولدة كالكسب والغلة وكل إما أن يكون قبل القبض فيتنصف إلا الغير المتولدة بقسميها أو بعده فلا يتنصف، فالأقسام ثمانية كما في النهر وغيره، والحاصل أن الزيادة لا تنتصف بل تسلم للزوجة إذا حدثت بعد القبض مطلقا أو قبله إن كانت غير متولدة متصلة ومنفصلة فكان الأولى للشارح أن يقول لأن الزيادة المتولدة قبل القبض تتنصف دون غيرها ثم اعلم أن هذا كله هذا إذا حدثت الزيادة قبل الطلاق، فلو بعده، فإن كانت قبل القبض تنصفت كالأصل وإن بعد القبض.اھ(ج3 ص105 کتاب النکاح ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1