میرے والد کا انتقال ہو چکا ہےاور ان کی وارثت میں صرف ایک گھر ہےجو کہ 9,500,000 مالیت کا ہے، میرے دادا، دادی اور چچا کا بھی انتقال ہو چکا ہے، اب وارثین میں میری امی، میری 3 بہنیں اور ہم 2 بھائی ہیں،شرعی طریقہ کے مطابق وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی؟
سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ،چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ مرحوم کے ذمہ کچھ قرض (یا بیوہ کا حق مہر) واجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کےایک تہائی (3/ 1) کی حد تک اس پر عمل کر کے اس کے بعد کل مال کے آٹھ(8) حصے کیے جائیں، جن میں سےبیوہ اور ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ دیا جائے،جبکہ ہر بیٹے کو دو دو حصے دیئے جائیں۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1