میرے والد کا انتقال 2010 میں ہوا، ان کی وفات کے بعد میرے بھائی نے کاروبار سنبھال لیا، میرے شوہر نے ابو کے کاروبار میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی،ابو کی وفات کے بعد میرے بھائی نے اپنی بیوی کے سونے کے زیورات بیچ کر میرے شوہر کی سرمایہ کاری کی رقم دیدی، چند ماہ بعد اس نے وراثتی زمین بیچ دی، توامی نے بھائی سےبولا کہ اپنی بیوی کا زیور بنوادو ، پر بھائی نے بولا کہ یہ میرا اور میری بیوی کا معاملہ ہے،آپ نہ بولیں،2024 میں ہم بہنوں نے وراثت سے اپنا حصہ مانگا تو بھائی کہتاہے کہ زیورات کے پیسے موجودہ ریٹ کے حساب سے وراثت میں سے دوگے تو وراثت میں سے حصہ دوں گا،سارے بزنس بھائی کی نگرانی میں ہے،اس میں سے ہم بہنوں کو کچھ بھی نہیں دیا،صرف گھراور دکان میں سے حصہ دینا ہے، اگر ہم بھائی کی ناجائز ڈیمانڈ پوری کرتے ہوئے اسے زیورات کے پیسے دیں،تو کیا ہم گناہ گار ہوں گے ،وہ حرام کھانےکی کوشش کر رہا ہے اور ہم اسے دے رہے ہیں۔
صورت مسئولہ میں سائلہ کےبھائی نے مرحوم والد کے کاروبار میں شریک سائلہ کے شوہر کا حصہ نکالنے اور اس کی رقم ادا کرنے کےلئے اپنی بیوی کے جو زیورات بیچے تھے ، تو شرعا یہ معاملہ سائلہ کے بھائی اور اس کی بیوی کے درمیان قرض کا تھا ، اس کا وراثت سے کوئی تعلق نہیں ، لہذا سائلہ کےبھائی کا اس مشترکہ کا روبار سے بیوی کے فروخت کردہ زیورات کی موجودہ رقم وصول کرنے پراصرار کرنا اور اس کی وجہ سے تقسیم ترکہ مؤخر کرنا جائز نہیں ،جس سے بہرصورت احتراز لازم ہے، البتہ اگر مذکور بزنس بھی سائلہ کے مرحوم والد کا ترکہ ہو اور مر حوم کی تمام جائیدادان کےورثاء کے درمیان تقسیم کی جارہی ہو تو اس صورت میں ان زیورات کی بوقت فروخت جو قیمت لگی تھی اور ان میں سے بھی جس قدر رقم سائلہ کے شوہر کی شراکت داری کوختم کرنے کے لئے اداکی گئی تھی، صرف اسی کی بقدر رقم تقسیم ترکہ سے قبل کل ترکہ سے منہا کرنا جائز ہوگا، تاہم اگر سائلہ اور اس کی بہن، بھائی کے اس ناجائز مطالبے کو فتنہ فساد سے بچنے کےلئےمجبوری میں پورا کردیتی ہیں تو وہ گناہ گار نہیں ہونگیں ،لیکن سائلہ کا بھائی اس رقم کو لینے کی وجہ سے بہر صورت گناہ گار ہوگا ،جس سے بچنا اس پرلازم ہے ۔
کما فی التنزیل العزیز: يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ الخ (سورۃ النساء 29)۔
وفی احکام القرآن للجصاص: قال الله تعالى يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم قال أبو بكر قد انتظم هذا العموم النهى عن أكل مال الغير ومال نفسه كقوله تعالى ولا تقتلوا أنفسكم قد اقتضى النهي عن قتل غيره وقتل نفسه فكذلك قوله تعالى لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل نهي لكل أحد عن أكل مال نفسه ومال غيره بالباطل الخ( سورۃ النساء، الآیۃ 29، باب التجارات و خیار البیع، ج2، ص172،ط: سہیل اکیڈمی لاہور)۔
وفی الدر: استقرض من الفلوس الرائجة والعدالي فكسدت فعليه مثلها كاسدة) و (لا) يغرم (قيمتها) وكذا كل ما يكال ويوزن لما مر أنه مضمون بمثله فلا عبرة بغلائه ورخصه ذكره في المبسوط من غير خلاف الخ
وفی الرد تحت: ( قوله فلا عبرة بغلائه ورخصه)(الی قولہ)وفي كافي الحاكم لو قال: أقرضني دانق حنطة فأقرضه ربع حنطة، فعليه أن يرد مثله وإذا استقرض عشرة أفلس، ثم كسدت لم يكن عليه إلا مثلها في قول أبي حنيفة، وقالا: عليه قيمتها من الفضة يستحسن ذلك وإن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه، وكذلك لو قال أقرضني عشرة دراهم غلة بدينار، فأعطاه عشرة دراهم فعليه مثلها، ولا ينظر إلى غلاء الدراهم، ولا إلى رخصها الخ(کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی القرض،ج5،ص162،ط ایچ ایم سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2