والدہ کی وراثت کی تقسیم:
سال 2012 میں میری والدہ کے والدین کا انتقال ہوگیا، سال 2014 میں میری والدہ کے والدین کا گھر فروخت ہوا، اور ان کے حصے کے طور پر 350000 روپے ملے، جون 2015 میں میری والدہ کا انتقال ہوگیا، میری والدہ نے درجِ ذیل وارثین چھوڑے، شوہر تین بیٹے شادی شدہ ایک بیٹی (شادی شدہ) 5 بھائی (شادی شدہ) 3 بہنیں(شادی شدہ) ، سال 2020 میں ان کی بیٹی ( میری بہن) کا بھی انتقال ہوگیا اور وہ اپنے پیچھے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں چھوڑ گئی، اب ہم جاننا چاہتے ہیں کہ میری والدہ کے چھوڑے جانے والے 350000 روپے اور سونے میں مذکو رہ بالا وارثین کا کتنا حصہ ہے؟
سائل کی والدہ مرحومہ کا ترکہ ان کے موجود ورثاء میں اصول ِمیراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد، سونا چاندی، زیورات، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے،مرحومہ کے کفن دفن کے مصارف شوہر کے ذمہ لازم ہیں، چنانچہ یہ مصارف اگر شوہر نے یا کسی اور نے بطورِ تبرع ادا کیے ہوں تو اب یہ ترکے سے منہا نہ ہوں گے، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ والدہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ والدہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کی کل چار سو اڑتالیس(448) حصے بنائے جائیں، جن میں سے شوہر کو ایک سو بیس (120)حصے، اور ہر بیٹے کو چھیانوے (96) حصے، اور بیٹی کے شوہر کو بارہ (12) حصے، اور نواسےکو چودہ (14) حصے، اور ہر نواسی کو سات (7) حصے دیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1