اسلام علیکم سوال: میرے والد صاحب سرکاری ملازم تھے 5 اسکیل میں، وفات سے چند روز قبل انہوں نے دفتر میں اپنے آفیسروں سے میری ملاقات کروائی کہ میں بیمار رہتا ہوں، میرے بیٹے کو ڈیوٹی پر رکھ لیں، اس پر آفیسر نے کہا جب بھی بھرتیاں آئیں گی تو اس کو رکھ لیں گے ،لیکن اس سے پہلے ہی دوران ڈیوٹی میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا۔ اس کے 2 ماہ بعد مجھے 7 اسکیل پر نوکری پر رکھ لیا گیا۔ باقی کچھ مراعات ملیں اور فیملی پنشن بھی والدہ کے نام جاری ہوگئی جس سے چھوٹی بہنوں اور بھائی کی پڑھائی کا خرچہ بھی چلتا رہا۔ جس گھر میں رہتے ہیں، وہ والدہ کے نام پر ہے، لیکن جو بعد میں مراعات ملیں والد صاحب کی وفات کے بعد اسی مکان کی تعمیر و مرمت میں لگا دیا گیا۔ اب جبکہ میری عمر 35 سال ہوگئی ہے اور اس نوکری پر مجھے 12 سال ہوگئے ہیں گھر پر خرچہ بھی دیتاہوں جب بھی میں گھر پر اپنی شادی کی بات کرتا ہوں تو والدہ کہتی ہیں جب تک میری بیٹیوں کی نہیں ہوگی تب تک نہیں کروں گی۔ کرنی ہے تو خود کر لو شادی اور اس گھر میں لانے کی ضرورت نہیں ہے، کرائے پر رہو یا جیسے بھی رہو، یہاں نہیں رہنا، اس پر جب اپنے حصہ کا مطالبہ کرتا ہوں تو کہتی ہیں تمھارا وراثت میں کوئی حق نہیں ہے تمھیں نوکری مل گئی ہے باقی جو پیسے ملے تھے حکومت کی طرف سے اس میں کوئی حق نہیں ہے تمھارا۔ اس صورت میں جبکہ فتنوں کا دور ہے اور والدہ کہیں شادی کی بات چلانے پر بھی راضی نہیں ہیں تو کیا میرا اس طرح ان کو چھوڑ کر جانا اور وراثت کا مطالبہ کرنا ٹھیک ہے؟ نیز اس نوکری کا کیا حکم ہوگا؟ براہ مہربانی تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔
سائل کی والدہ کو چاہیے کہ جلد از جلد اپنی تمام اولاد کا اچھی جگہ تلاش کرکے ان کا نکاح کرائے، پہلے بیٹیوں کا رشتہ کرنا اور اس کے بعد بیٹے کا رشتہ کرنا، جبکہ بیٹے کی عمر بھی کافی ہوچکی ہو، مناسب طرز عمل نہیں، بلکہ پہلے بڑی اولاد (خواہ بیٹا ہو یا بیٹی) کے رشتہ طے کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔
جبکہ سائل کو بھی چاہیے کہ والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے ادب و احترام کا پورا خیال رکھے، ان کی بےادبی کرنا یا ان کو کسی بھی طرح کی اذیت پہچانا شرعاً جائز نہیں، لہٰذا اگر سائل کے لیے ازخود والدہ کو نکاح کے معاملہ میں سمجھانا مشکل ہو تو خاندان کی معزز خواتین کے ذریعہ سے ان کو سمجھانے کی کوشش کی جائے بصورت دیگر سائل کو چاہیے کہ کثرت سے روزے رکھنے کا اہتمام کرے اور اللہ تعالیٰ سے اچھے جیون ساتھی کی دعا کرتا رہے، امید ہے کہ اس سے معاملہ حل ہو جائے گا۔
جبکہ ادارہ کی طرف سے پنشن وغیرہ جو سائل کی والدہ کے نام جاری ہوئی ہے تو چونکہ عموماً اس طرح کی رقم ادارہ کی طرف سے تبرع ہوتی ہے، لہٰذا اگر مذکور فنڈ والدہ کے نام جاری ہوا ہو تو صرف وہی اس رقم کی حقدار ہے، دیگر ورثاء کا اس میں کوئی حق نہیں اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کرسکتے ہیں، تاہم اس کے علاوہ مرحوم کا جو ذاتی ترکہ ہے، اس میں سائل سمیت تمام ورثاء کا حق ہے، مذکور ملازمت ملنے کی وجہ سے سائل اپنے شرعی حصہ سے محروم نہ ہوگا۔
کما فی البدائع الصنائع: لان ارث انما یجری فی المتروک من ملک او حق للمورث علی ما قال علیہ السلام : من ترک مالا او حقاً فھو لورثتہ۔(57/5)۔
و فی مجلة الأحكام العدلية : إذا طلب أحد الشريكين القسمة و امتنع الآخر فيقسمه القاضي جبرا إن كان المال المشترك قابلا للقسمة و إلا فلا يقسمه . على ما يبين في الفصل الثالث و الرابع. (ص: 218)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1