کیافرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ محمد عالم کے انتقال کے وقت اس کے ورثاء میں بیوہ،دوبیٹے فیاض حسین اور مظہر حسین اور ایک بیٹی شبانہ موجود تھی،پھر بیوہ کا انتقال ہوگیا اور یہی ورثاء موجود تھے،پھر بیٹے فیاض حسین کا انتقال ہوا،اس کے ورثاء میں بیوہ،پانچ بیٹیاں اور ایک بھائی اور ایک بہن موجود تھی،اس کے بعد اس کی بیوہ کا انتقال ہوا،اس کے ورثاء میں پانچ بیٹیاں اور ایک بھائی موجود ہے،جبکہ بیوہ کے والدین کا انتقال پہلے ہوچکا تھا،پھر دوسرے بیٹے مظہر حسین کا انتقال ہوا،اس کے ورثاء میں ایک بیوہ اور دو بیٹیاں ایک بہن اور ایک چچا زاد بھائی مختیار احمد موجود ہے،تو ان کا ترکہ ان ورثاءکے درمیان شرعی طریقہ کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائیگا ؟راہنمائی فرمائیں شکریہ
واضح ہو کہ والدین مرحومین کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے موجود تمام ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3 ) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل دس ہزار آٹھ سو (10800) حصے بنائےجائیں ، جن میں سے مرحومین کی بیٹی کوتین ہزار چارسو پچاسی (3485) حصے،پوتیوں (فیاض حسین کی بیٹیاں ) میں سے ہر ایک پوتی کوچھ سو اڑتالیس (648 )حصے،بہو (فیاض حسین کی بیوہ)کے بھائی کوایک سو اسی (180) حصے جبکہ بہو(بیوہ مظہر حسین )کو چھ سو پندرہ حصےاور پوتیوں (مظہر حسین کی بیٹیوں )میں سے ہر ایک کو ایک ہزار چھ سو چالیس (1640)حصےدیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1