السلام علیکم مفتی صاحب !
میں محمد طیب حسین ولدگلاب حسین آپ کے سامنے کچھ گھریلو مسائل پر قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی (فتوی )حاصل کرنا چاہتا ہوں ،سوال مندرجہ ذیل ہے :
سوال نمبر 1 : کیا میرے بیٹے کے اثاثہ جات میں جس میں 28 لاکھ روپے ایک مہران گاڑی ہے، اس میں ماں باپ، بیوہ اور دو بچیوں کا کیا حصہ ہوگا ؟بیٹے کا انتقال ہو چکا ہے ۔
سوال نمبر 2: میری دو پوتیاں ہیں جن کی عمر سات سال اور چھ سال ہے، کیا مجھے اس کی سرپرستی مل سکتی ہے کہ نہیں؟
سوال نمبر 3: ایک بیوہ کو معاشرے میں کس طرح زندگی گزارنی چاہئیے؟قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب کا منتظر ہوں ۔
سوال نمبر 4: اور اگر بیوہ کی چال چلن مشکوک ہوں تو کیا بچیوں کو ماں کے حوالے کیا جا سکتا ہے ؟بچیوں کو ملنے والا حصہ ایسی ماں کے حوالے کیا جا سکتا ہے؟جبکہ اس بات کا خدشہ ہے کہ ماں بچیوں کے مال میں خرد برد نہ کر دے، کیونکہ بچیاں نابالغ ہیں اور یتیم کا مال امانت ہے، کوئی ایسا طریقہ واضح کیا جائے کہ بچیوں کا مال محفوظ ہاتھوں میں رہے ،ڈیپازٹ ہو جائے ۔
سوال نمبر5: میری فیملی میں میری بیوی، بیٹی شادی شدہ اور دو پوتیاں ہیں , بیٹے کا انتقال ہو گیا ہے شرعی طور پر ہماری فیملی ممبران کی کیا حیثیت ہے ؟شرعی طورپر جس کا جو حق ہے میں اسے ادا کروں گا ،اس کے لئےمجھے دو سال کی مہلت چاہیے کیونکہ میں ایک پینشنرہوں اور بچیوں کادادا ،دادی سے ملنے کا طریقہ بھی واضح کریں؟
1: سائل کے مرحوم بیٹے نے بوقتِ انتقال مذکور گاڑی سمیت جو کچھ اپنی ذاتی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ مرحوم کا ترکہ ہے، جس میں سے حقوق متقدمہ عل المیراث کے بعد مرحوم کے والدین، بیوہ اور بیٹیاں حسبِ حصصِ شرعیہ حصہ دار ہو نگی، جس کا طریقہ کار ذیل میں آرہا ہے۔
2: سائل کے بیٹے کی وفات کے بعد مرحوم کی بیٹیوں کی ولایت اور سرپرستی تو دادا ہونے کی حیثیت سے شرعاً سائل کو ہی حاصل ہے، تاہم بچیوں کے بالغ ہونے تک (جس کی کم از کم مدت نو سال ہے)، ان کی پرورش اور حضانت کا حق بچیوں کی ماں کو حاصل ہوگا، بشرطیکہ اس دوران وہ بچیوں کے کسی غیر ذی رحمِ محرم سے شادی نہ کرے یا اور کوئی شرعی عذر نہ ہو۔
3: واضح ہوکہ ایک بیوہ کے ل8ے معاشرہ میں عزت کے ساتھ،شریفانہ طریقہ کے مطابق اپنی اولاد کے ساتھ زندگی گزارنی چاہئیے ،اور عدت کے دوران بغیر کسی عذر کے گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں،جبکہ عدت گزرجانے کے بعد اپنی اولاد کی تربیت اور ان کی پرورش پر توجہ دینی چاہیے،بلاعذر باہر گھومنے پھرنے سے احتراز کرنا چاہئیے،تاہم عدت کے بعد اگر گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اور وہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنا چاہتی ہے تو شرعی طریقہ کے مطابق اسے نکاح کرنے کا اختیار حاصل ہے،اور اس کی وجہ سے سسرال یا کسی اور کا اس پر کسی قسم کی زور زبردستی کرنا اور اسے دوسری جگہ نکاح سے منع کرنا جائز نہیں۔
4: فقط شک کی بنیاد پر تو مندرجہ بالا مدت تک ماں کا حق حضانت و پرورش ختم نہیں کیا جا سکتا ،البتہ اگر ماں کسی ایسی برائی میں مبتلا ہو ،جس کی بنا ءپر زیادہ تر گھر سے باہر رہنا پڑتا ہو، جس سے بچیوں کی دیکھ بھال یا اخلاق و کردار متاثر ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں بچیاں، ماں کی پرورش میں رکھنے کے بجائے نانی اور نانی کے نہ ہونے کی صورت میں دادی کی پرورش میں رکھی جائینگی، جبکہ بچیوں کے والد نے اگر بچیوں کے مالی معاملات کی دیکھ بھال کے لئےکسی شخص کو نگران (اور وصی)نامزد کیا ہو تو بچیوں کے مال کی حفاظت وغیرہ اسی شخص کے ذمہ ہوگی، لیکن اگر کوئی وصی اور نگران نامزد نہ ہو تو پھر بچیوں کے بالغ اور سمجھدار ہونے تک دادا ہونے کی حیثیت سے سائل کو ہی بچیوں کے مال کی حفاظت اور دیکھ بھال کا حق ہوگا۔
5: سائل کا یہ سوال پوری طرح واضح نہیں ،تا ہم اگر سائل ترکے میں حصہ داری کے متعلق معلوم کرنا چاہتا ہو تو مرحوم بیٹے کے ترکے میں شرعا ًاس کی بیوہ ،والدین اور بیٹیاں حصہ دار ہیں، مرحوم کی بہن کا مرحوم کے ترکہ میں شیرعاًکوئی حصہ نہیں ،جبکہ سابقہ تفصیل کے مطابق بچیاں اگر والدہ یا نانی کی پرورش میں ہو ں تب بھی ان کے لئے بچیوں کو دادا ،دادی کی ملاقات سے روکنے کا حق حاصل نہیں بلکہ دادا ،دادی وقتا فوقتا اپنی پوتیوں سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے بیٹے مرحوم کا ترکہ اس کے موجودورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم بیٹےنے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حقِ مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل ستائیس (27)حصے بنائےجائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کوتین (3) حصے،اس کے والدین میں سے ہر ایک کو چار(4) حصے , جبکہ ہر بیٹی کو آٹھ (8) حصے دیے جائیں -
کمافی الدر المختار: (ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور وأما أم أبي الأم فتؤخر عن أم الأب بل عن الخالة أيضا بحر (ثم الأخت لأب وأم ثم لأم) لأن هذا الحق لقرابة الأم الخ(ج3 ص562 باب الحضانۃ ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى.اھ(ج3 ص566 باب الحضانۃ ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: وهل إرث الحي من الحي أم من الميت؟ المعتمد: الثاني شرح وهبانية اھ(ج6 ص758 کتاب الفرائض ط: سعید)۔
وفی رد المحتار: والحاصل أن الحاضنة إن كانت فاسقة فسقا يلزم منه ضياع الولد عندها سقط حقها وإلا فهي أحق به إلى أن يعقل فينزع منها كالكتابية. (قوله: بأن تخرج كل وقت إلخ) المرادكثرة الخروج، لأن المدار على ترك الولد ضائعا والولد في حكم الأمانة عندها، ومضيع الأمانة لا يستأمن، ولا يلزم أن يكون خروجها لمعصية حتى يستغني عنه بما قبله فإنه قد يكون لغيرها؛ كما لو كانت قابلة، أو غاسلة، أو بلانة أو نحو ذلك، ولذا قال في الفتح: إن كانت فاسقة أو تخرج كل وقت إلخ فعطفه على الفاسقة يفيد ما قلنا فافهم.اھ(ج3 ص557 باب الحضانۃ ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: هي انتظار مدة معلومة يلزم المرأة بعد زوال النكاح حقيقة أو شبهة المتأكد بالدخول أو الموت كذا في شرح النقاية للبرجندي. رجل تزوج امرأة نكاحا جائزا فطلقها بعد الدخول أو بعد الخلوة الصحيحة كان عليها العدة كذا في فتاوى قاضي خان.اھ(ج1 ص526 کتاب الطلاق،ط: ماجدیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1