اسلام میرے والد کا گھر ان ک انتقال ک بعد فروخت ھوا ہے جس میں ٥ بھائی 3 بہیں کا حصہ ہے مسلہ یہ ہے ک میں نے نکاح کیا تھا 3 جس سے مرا بیٹا بھی ہے ابھی 3 بیٹی ایک بیٹا پہلے نکاح سے بھی ٢ بیٹی ہے مگر ان دونوں کو طلاق هو چوکی ہے 3 بیوی نے طلاق ک بعد الزام لگایا ک مجھ پی اس کا پیسا ہے جان چھوٹا نے ک لے میں نے بھی ھاں کر لی تھی کیوں ک اس کا باپ بدمعاش ک پاس کام کرتا تھا اس کا کام بھی حرام کھانا لوگوں ک گھر پر قبضہ کرنا ہے جو پیسے میں نے ہاں کی وه ٣٠٠٠٠ تھے مگر ان لوگوں نے پورا گھر پے قبضہ کیا جو اب چھوٹ چوکا ہے بک بھی گیا ہے مگر اس میں سے مرا جو حصہ تھا جو بننا تھا وه لے کر ہٹے اب اس پی جو لوگوں نے بیچ میں پر کر پیسے لے ٣٢٠٠٠٠ ہے اب میرے بھائی مجھے سے تقاضہ کر رہے ہے ٣٢٠٠٠٠ کا جس میں مرا حصہ بھی ہے تو کیا میں دیں دار هو اور حصہ میں حقدار هو ابّو ک گھر کا سکریہ
تنقیح : سائل کا سوال واضح نہیں ہے، اس لئے سائل کو چاہیئے کہ مکمل طور پر وضاحت لکھ کر دوبارہ سوال ارسال کردیں، انشاءاللہ اس پر غور و فکر کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کیا جائےگا۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0