احکام وراثت

قیمت کے لحاظ سے ترکہ کی تقسیم

فتوی نمبر :
78836
| تاریخ :
2024-10-21
معاملات / ترکات / احکام وراثت

قیمت کے لحاظ سے ترکہ کی تقسیم

میرے والد صاحب نے اپنی زندگی میں کچھ کمرشل جگہ ہم دو بھائیوں میں تقسیم کردی تھی،جوکہ اب ہم بھائیوں کی ملکیت ہے،اس میں ہماری طرف سے کوئی تقاضہ نہ تھا،والد صاحب نے اپنی رضامندی سے ہمارے نام کردی،جبکہ ہماری پانچ بہنیں بھی ہیں،والد صاحب فوت ہوگئے،بیس سال پہلے،اس عرصہ میں ہم نےملکر بہنوں کو پڑھایا، ان کی شادیاں کیں،والدہ حیات ہے اور ان کے نام دس مرلہ زمین جس پر میں نے اور میرے بڑے بھائی نے اپنا مکان بنایا ہے،پانچ پانچ مرلہ پر،اور رہائش پزیر ہیں،جبکہ تین مرلہ زمین والد صاحب کے نام ہے،جو ابھی تقسیم نہیں کی،اب میں نے جس کے قبضے میں تین مرلہ زمین جو والد صاحب کے نام ہے،اپنی بہنوں کو اسمیں سے موجودہ زمین کی قیمت کے مطابق حصہ دینے کی نیت کی ہے اور ارادہ بھی ہے،لیکن میرے اسباب اتنے نہیں ہے کہ میں ان کو جلد از جلد ادائیگی کرسکوں،سوال یہ ہے کہ کیا والدہ نے جو زمین ہم بھائیوں کو رہائش رکھنے کے لیے دی ،اس میں سے بہنوں کو حصہ دینا ہوگا،جبکہ والدہ بھی زندہ ہے،والدہ بضد ہے کہ اس میں سے بہنوں کو حصہ دوگے تو رہوگے کہاں،وہ کہتی ہے کہ صرف تین مرلہ میں سے بہنوں کو حصہ دینا ہے،سب بہنیں اللہ کے فضل سے خوشحال ہیں،تقاضہ بھی کسی بہن کی طرف سے نہیں کیا گیا اور نہ ہی ہماری طرف سے کوئی زبردستی والدہ کے ساتھ کی گئی ہے،سوال یہ کہ میں تین مرلہ زمین جو والد صاحب کے نام ہے اور میرےقبضے میں ہے،بہنوں کو آفر بھی کی کہ اگر وہ زمین لینا چاہتی ہیں ،ان کی مرضی اور اگر زمین کی قیمت لینا چاہتی ہیں تو قیمت دونگا،انہوں نے قیمت لینے کا کہا ہے،لیکن میں جلد ادائیگی نہیں کر پارہا کوشش کے باوجود ،تو اس کی ادائیگی کی مدت زیادہ سے زیادہ کیا ہوگی؟کیا والد نے جو زمین اپنی زندگی میں ہم بھائیوں کو دی،اس میں سے بھی حصہ بہنوں کو دینا ہوگا؟
نوٹ: سائل نے بتایا کہ والد صاحب نے یہ جگہ ہم دو بھائیوں کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ دیکر تقسیم کیا تھا اور والدہ نے بھی پانچ پانچ مرلہ ہر بھائی کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ دیا تھا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو،اس میں کسی بھی قسم کے غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ والد اور والدہ نے مذکور زمینیں بیٹوں کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ دی ہوں تو ایسی صورت میں مذکور بیٹے ان زمینوں کے مالک بن چکےہیں،اور والد کے انتقال کے بعد یہ زمینیں اس کے ترکہ میں شمار نہ ہوں گی،جبکہ اس کے علاوہ جو تین مرلہ زمین ہےتو چونکہ وہ والد صاحب کی ملکیت ہے،لہٰذا اس میں تمام ورثاء کا حصہ ہے،تقسیم سے قبل بہنوں کا اپنا حصہ معاف کرنے یا اسے چھوڑدینے سے وہ معاف نہیں ہوتا بلکہ والد کے انتقال کے بعد وہ بہنوں سمیت دیگر تمام ورثاء کے درمیان شرعی طریقہ کے مطابق تقسیم کرنا ضروری ہے،پھر چاہےقیمت کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے یا زمین کے حصوں کے اعتبار سے تاہم دونوں صورتوں میں جلد از جلد اسے تقسیم کرنے کی فکر کرنی چاہئیے، بلاوجہ تقسیم میں تاخیر درست نہیں،جس سے احتراز لازم ہے،جبکہ سائل کے پاس اگر فی الوقت قیمت کا انتظام نہ ہو اور نہ ہی مستقبل قریب میں سائل کو اس کی توقع ہو تو ایسی صورت میں سائل کو چاہیئے کہ مذکور زمین کو فی الفور فروخت کرکے اس کی قیمت تمام ورثاء میں شرعی طریقہ کے مطابق تقسیم کرے، نیز سائل کو چونکہ والدین کی طرف سے پہلے بھی ہی اتنا حصہ مل چکا ہے، لہٰذا اگر وہ مذکور تین مرلہ زمین میں سے تھوڑا بہت لے کر بہنوں کے حق میں اپنا حصہ چھوڑنا چاہے تو اسے اس کا اختیار حاصل ہے اور سائل اور بھائی کو ایسا ہی کرنا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدرالمختار : ( و تتم الھبۃ بالقبض ) الکامل ( و لو وھب شاغلا الملک الواھب لا مشغولا بہ ) ( کتاب الھبۃ ج 5 ص 690 ط : سعید )۔
وفی رد المحتار: و لو وھب شیئا لاولادہ فی الصحۃ و اراد تفضیل البعض علی البعض روی عن ابی حنیفۃ لا باس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فٖضل الدین ( کتاب الھبۃ ج 4 ص444 ط : سعید ) ۔
وفیھا أیضاً: ومنھا ( ای من شرائط الھبۃ ) ان یکون الموھوب مقبوضاً حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض الخ (کتاب الھبۃ ج 4 ص 374 ط: ماجدیۃ )۔
وفی بدائع الصنائع : و ینبغی للرجل ان یعدل بین اولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ و تعالٰی انّ اللہ یامر بالعدل و الاحسان الخ ( کتاب الھبۃ ، ج 6 ص 127 ط : سعید )۔
کمافی قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار علي الدر المختار: الارث جبري لا يسقط بالاسقاط.اھ(ج7 ص350 کتاب الدعوی ط: دارالفکر)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد صدیق سردار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 78836کی تصدیق کریں
0     39
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 4
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات