میرے والد صاحب نے اپنی زندگی میں کچھ کمرشل جگہ ہم دو بھائیوں میں تقسیم کردی تھی،جوکہ اب ہم بھائیوں کی ملکیت ہے،اس میں ہماری طرف سے کوئی تقاضہ نہ تھا،والد صاحب نے اپنی رضامندی سے ہمارے نام کردی،جبکہ ہماری پانچ بہنیں بھی ہیں،والد صاحب فوت ہوگئے،بیس سال پہلے،اس عرصہ میں ہم نےملکر بہنوں کو پڑھایا، ان کی شادیاں کیں،والدہ حیات ہے اور ان کے نام دس مرلہ زمین جس پر میں نے اور میرے بڑے بھائی نے اپنا مکان بنایا ہے،پانچ پانچ مرلہ پر،اور رہائش پزیر ہیں،جبکہ تین مرلہ زمین والد صاحب کے نام ہے،جو ابھی تقسیم نہیں کی،اب میں نے جس کے قبضے میں تین مرلہ زمین جو والد صاحب کے نام ہے،اپنی بہنوں کو اسمیں سے موجودہ زمین کی قیمت کے مطابق حصہ دینے کی نیت کی ہے اور ارادہ بھی ہے،لیکن میرے اسباب اتنے نہیں ہے کہ میں ان کو جلد از جلد ادائیگی کرسکوں،سوال یہ ہے کہ کیا والدہ نے جو زمین ہم بھائیوں کو رہائش رکھنے کے لیے دی ،اس میں سے بہنوں کو حصہ دینا ہوگا،جبکہ والدہ بھی زندہ ہے،والدہ بضد ہے کہ اس میں سے بہنوں کو حصہ دوگے تو رہوگے کہاں،وہ کہتی ہے کہ صرف تین مرلہ میں سے بہنوں کو حصہ دینا ہے،سب بہنیں اللہ کے فضل سے خوشحال ہیں،تقاضہ بھی کسی بہن کی طرف سے نہیں کیا گیا اور نہ ہی ہماری طرف سے کوئی زبردستی والدہ کے ساتھ کی گئی ہے،سوال یہ کہ میں تین مرلہ زمین جو والد صاحب کے نام ہے اور میرےقبضے میں ہے،بہنوں کو آفر بھی کی کہ اگر وہ زمین لینا چاہتی ہیں ،ان کی مرضی اور اگر زمین کی قیمت لینا چاہتی ہیں تو قیمت دونگا،انہوں نے قیمت لینے کا کہا ہے،لیکن میں جلد ادائیگی نہیں کر پارہا کوشش کے باوجود ،تو اس کی ادائیگی کی مدت زیادہ سے زیادہ کیا ہوگی؟کیا والد نے جو زمین اپنی زندگی میں ہم بھائیوں کو دی،اس میں سے بھی حصہ بہنوں کو دینا ہوگا؟
نوٹ: سائل نے بتایا کہ والد صاحب نے یہ جگہ ہم دو بھائیوں کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ دیکر تقسیم کیا تھا اور والدہ نے بھی پانچ پانچ مرلہ ہر بھائی کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ دیا تھا۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو،اس میں کسی بھی قسم کے غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ والد اور والدہ نے مذکور زمینیں بیٹوں کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ دی ہوں تو ایسی صورت میں مذکور بیٹے ان زمینوں کے مالک بن چکےہیں،اور والد کے انتقال کے بعد یہ زمینیں اس کے ترکہ میں شمار نہ ہوں گی،جبکہ اس کے علاوہ جو تین مرلہ زمین ہےتو چونکہ وہ والد صاحب کی ملکیت ہے،لہٰذا اس میں تمام ورثاء کا حصہ ہے،تقسیم سے قبل بہنوں کا اپنا حصہ معاف کرنے یا اسے چھوڑدینے سے وہ معاف نہیں ہوتا بلکہ والد کے انتقال کے بعد وہ بہنوں سمیت دیگر تمام ورثاء کے درمیان شرعی طریقہ کے مطابق تقسیم کرنا ضروری ہے،پھر چاہےقیمت کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے یا زمین کے حصوں کے اعتبار سے تاہم دونوں صورتوں میں جلد از جلد اسے تقسیم کرنے کی فکر کرنی چاہئیے، بلاوجہ تقسیم میں تاخیر درست نہیں،جس سے احتراز لازم ہے،جبکہ سائل کے پاس اگر فی الوقت قیمت کا انتظام نہ ہو اور نہ ہی مستقبل قریب میں سائل کو اس کی توقع ہو تو ایسی صورت میں سائل کو چاہیئے کہ مذکور زمین کو فی الفور فروخت کرکے اس کی قیمت تمام ورثاء میں شرعی طریقہ کے مطابق تقسیم کرے، نیز سائل کو چونکہ والدین کی طرف سے پہلے بھی ہی اتنا حصہ مل چکا ہے، لہٰذا اگر وہ مذکور تین مرلہ زمین میں سے تھوڑا بہت لے کر بہنوں کے حق میں اپنا حصہ چھوڑنا چاہے تو اسے اس کا اختیار حاصل ہے اور سائل اور بھائی کو ایسا ہی کرنا چاہیئے۔
کمافی الدرالمختار : ( و تتم الھبۃ بالقبض ) الکامل ( و لو وھب شاغلا الملک الواھب لا مشغولا بہ ) ( کتاب الھبۃ ج 5 ص 690 ط : سعید )۔
وفی رد المحتار: و لو وھب شیئا لاولادہ فی الصحۃ و اراد تفضیل البعض علی البعض روی عن ابی حنیفۃ لا باس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فٖضل الدین ( کتاب الھبۃ ج 4 ص444 ط : سعید ) ۔
وفیھا أیضاً: ومنھا ( ای من شرائط الھبۃ ) ان یکون الموھوب مقبوضاً حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض الخ (کتاب الھبۃ ج 4 ص 374 ط: ماجدیۃ )۔
وفی بدائع الصنائع : و ینبغی للرجل ان یعدل بین اولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ و تعالٰی انّ اللہ یامر بالعدل و الاحسان الخ ( کتاب الھبۃ ، ج 6 ص 127 ط : سعید )۔
کمافی قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار علي الدر المختار: الارث جبري لا يسقط بالاسقاط.اھ(ج7 ص350 کتاب الدعوی ط: دارالفکر)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0