¬جناب مفتی ،صاحب السلام علیکم !سوال ہے کہ قمر الہدیٰ کے چھ بھائی ہیں، ان کی ایک بیٹی ہے ،جس کا نام صائمہ طلعت ہے، جب قمر الہدیٰ حیات تھے تب ہی ان کے والد نے ایک زمین قمر الہدیٰ کے نام کر دی تھی، قمر الہدیٰ کا انتقال ان کے والد صاحب کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا، تب صائمہ طلعت کی والدہ نے دوسری شادی قمر الہدی کے بھائی"فخرالہدیٰ" سے کر لی ،سوال یہ ہے کہ قمر الہدیٰ کے ترکہ کا کیا ہوگا؟ کیا صائمہ طلعت کو قمرالہدیٰ کے ترکہ سے کچھ ملے گا یا فخر الہدیٰ ان کے کفیل ہوں گے؟
نوٹ: سائل سے بذریعہ فون معلوم ہوا کہ والد نے باقاعدہ مالکانہ قبضہ کےساتھ زمین قمر الہدیٰ کو دیدی تھی۔
صورت مسؤلہ میں اگر قمر الہدیٰ مرحوم کے والد نے اپنی زندگی میں باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ اپنے بیٹے قمر الہدیٰ کو زمین تحفہ میں دی تھی(جیساکہ سوال میں مذکور ہے)تو مرحوم قمر الہدیٰ اس زمین کا مالک بن چکا تھا،لہذااب جب قمر الہدیٰ کا انتقال ہو چکاہےتو مذکور زمین اس کے دیگر ترکے کی طرح بیوہ سمیت اس کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہو گا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحوم قمر الزمان کا تر کہ اصول میراث مطابق اس کے موجود ورثاءمیں اس طرح تقسیم ہوگاکہ مرحوم نے بوقت انتقال جوکچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیدادسونا ،چاندی ،زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب واجب الاداء ہو تو اسے ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کرنے کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل سولہ(16) حصےبنائے جائیں ،جن میں سے بیوہ کو (2)حصے بیٹی کو آٹھ (8)حصے اور ہر بھائی کو ایک ایک (1) حصہ دیا جائے ۔
کمافی الدرالمختار:(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به)الخ(کتاب الہبہ ج5 ص690)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0