کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے (چغرزی) ضلع بونیر کے کئی باشندے عرصہ دراز سے کراچی ڈاک لیبر بورڈ میں ملازمت کر رہے ہیں یہ ایک ایسا نجی بورڈ ہے کہ جس میں سن 2000 تک سن کوٹہ کے ذریعے بھرتی ہوتی تھی اب وہ سن کوٹہ بند ہے، ملازمت کرنے والے کو ریٹائرمنٹ کے وقت کافی فنڈ ملتا ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ مثال کے طور پر دو بھائی ہے ایک کراچی ڈاگ لیبر بورڈ میں ملازم ہے اور دوسرا گاؤں میں رہتا ہے اب جب ان دونوں بھائیوں کی تقسیم کے وقت جس طرح دیگر جائیداد میراث میں تقسیم ہوتی ہے تو یہ دوسرا بھائی جو کہ گاؤں میں رہتا ہے کہتا ہے کہ یہ ملازمت ہمیں والد سے میراث میں ملی ہے ملازم بھائی کو جو فنڈ ملتا ہے وہ جائیداد ہی کی طرح آپس میں تقسیم ہوگا، تو کیا یہ فنڈ واقعی میراث میں شمار ہوگا کہ نہیں ؟اور یہ فنڈ آپس میں دونوں بھائیوں پر برابر تقسیم ہوگا کہ نہیں؟ برائے کرم تفصیلی جواب عنایت فرمائیں ۔کئی سو افراد کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے والد نے بتایا ہے (وصیت کی ہے) کہ ملازم بھائی آپ کو اپنے فنڈ میں سے حصہ دے گا تو کیا دوسرے بھائی کو حصہ ملے گا کہ نہیں برائے کرم تفصیلی جواب عنایت فرماکر خلجان رفع فرمائیں۔
واضح ہو کہ ملازمت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں میراث جاری ہو، بلکہ میراث ان چیزوں میں جاری ہوتی ہے جو مورث کی وفات وفات کے وقت منقولی یا غیر منقولی سامان اور جائیداد کی شکل میں اس کی ملکیت میں موجود ہو، جبکہ والد کے بعد ادارے کے ضابطے کے مطابق اس کے بیٹے سن کوٹہ(Sun Qouta) سسٹم کے تحت والد کی جگہ اس کی اسامی پر تقرری کرنے سے وہ بھائی باقاعدہ اس ادارے کا ملازم بن جاتا ہے، لہٰذا ملازمت کی خدمات کے نتیجہ میں ملنے والے فنڈز کی رقم بھی اسی بھائی کی تنہا ملکیت شمار ہوگی، اس میں دوسرے بہن بھائیوں کا کوئی حصہ نہ ہوگا اور نہ ہی اسے کسی قسم کے مطالبہ کا اختیار حاصل ہوگا، نیز والد کا بیٹے کی ذاتی ملکیت سے متعلق یہ وصیت کرنا کہ اس کو ملنے والے فنڈ میں دیگر بہن بھائیوں کا حق ہوگا ملکیت غیر سے متعلق وصیت ہونے کی وجہ سے شرعاً معتبر نہیں، لہٰذا اس ملازم بھائی کے دیگر بہن بھائیوں کو ملازم بھائی سے ملنے والے فنڈ میں حصہ داری کا مطالبہ کرنا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر مذکور بھائی اپنی مرضی و خوشی سے انہیں کچھ دینا چاہے تو اس کا انہیں اختیار ہے، مگر ایسا کرنا اس پر لازم نہیں۔
کما فی البدائع الصنائع: لان ارث انما یجری فی المتروک من ملک او حق للمورث علی ما قال علیہ السلام : من ترک مالا او حقاً فھو لورثتہ۔(57/5)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1