احکام وراثت

دیور کا بھابھی سے مرحوم بھائی کےترکہ سے حصہ مانگنا

فتوی نمبر :
79096
| تاریخ :
2024-11-03
معاملات / ترکات / احکام وراثت

دیور کا بھابھی سے مرحوم بھائی کےترکہ سے حصہ مانگنا

السلام علیکم
میرا مسئلہ یہ ہے کے میری دو بیٹیا ں ہیں اور میرے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے ۰اب میرے دیور نے دعویٰ کر دیا ہے کہ بیٹا نا ہونے کی وجہ میرے مرحوم شوہر کی جائیدادمیں ان کا حصہ بنتا ہے ۰جو کہ شریعت میں ہے ۰ اب اگر میں ان کو حصہ دے دوں تو گھر بک جائے گا۰اور میں اور میری بیٹیاں کہاں رہیں گی ۰ ہم با پردہ خواتین ہیں ۰
میرے کچھ سوال ہیں ۔دیور کا کتنا حصہ بنتا ہے ؟یہ حصّہ شریعت میں کیوں ہے ؟حصہ دینے کے بعد ہم کہاں رہیں گے ؟ہماری ذمہ داری اب کس پر ہے ؟میری بیٹیوں کی شادی اب کون کرائےگا ؟
برائے مہربانی تفصیل سے جواب دیں .

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ شریعتِ مطہرہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ عادلانہ نظام ہے، جس کے ہر حکم میں کامل حکمت اور بے پایاں رحمت پوشیدہ ہے۔ وراثت کا نظام محض ایک معاشی تقسیم نہیں، بلکہ خاندانی توازن، حقوق کی حفاظت، اور سماجی عدل کا مظہر ہے۔ بعض اوقات انسان کو بظاہر یہ احکام سخت یا خلافِ مصلحت محسوس ہوتے ہیں، لیکن انہی کی اتباع میں دنیاوی واخروی فلاح کا راز مضمر ہے۔
قرآن کریم میں ارشادہے :
ءَابَآؤُكُمۡ وَأَبۡنَآؤُكُمۡ لَا تَدۡرُونَ أَيُّهُمۡ أَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعٗاۚ فَرِيضَةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمٗا النساء: 11
ترجمہ :تم نہیں جانتے کہ تمہارے لیے کون نفع رساں ہے، یہ اللہ کی طرف سے فرض کیا ہوا قانون ہے۔
اس مختصرتمہیدکے بعدسائلہ کے سوالات کے جوابات ترتیب وارذکرکیے جاتے ہیں ؛
(1)اگر کسی ایسے شخص کا انتقال ہو جائے جسکی نرینہ اولاد اوروالدموجودنہ ہو ، تو اس نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ چھوڑا ہواس میں اس کی بیوہ ، بیٹیوں اوروالدہ (اگرزندہ ہوں )کے ساتھ شرعاً اسکے زندہ بہن بھائی بھی حصہ دار بنتے ہیں ،لہذاصورت مسئولہ میں مرحوم کی نرینہ اولادنہ ہونے کی وجہ سےبیوہ اوراس کی دونوں بیٹیوں کے شرعی حصہ کی ادائیگی کے بعدجوکچھ بچ جائے وہ مرحوم کے بہن ،بھائیوں کےدرمیان "للذکرمثل حظ الانثین"(مردکوعورت سے دگناملنےکاقانون )کے قاعدے کے مطابق تقسیم کیاجائیگا،اس لیے سائلہ کے دیورکااپنے مرحوم بھائی کے ترکہ میں حصہ کادعوی کرناشرعاًدرست ہے۔
(2)دیوربچیوں کا ولی ہے ،اگران بچیوں کونفقہ کی ضرورت ہوتوان کاچچااس کاذمہ دارہے ،چونکہ وہ بوقت ضرورت نفقہ کاذمہ دارہے توان ذمہ داریوں سے تعلق کی وجہ سے بوقت وراثت حصہ بھی پاتاہے ۔
(5۔3) مرحوم کی بیوه(سائلہ ) کے اخراجات تواس کےسسرال میں سےکسی پر لازم نہیں ہيں ،خوداس کے خاندان ،والد،بھائی وغیرہ پرہیں البتہ یتیم بچیوں كے پاس اگراپنامال نہ ہوتوان کی کفالت اور پرورش کی شرعاً ذمہ داری ان کے دادا پر ہوتی ہے، اس کی عدم موجودگی کی صورت میں ان کے چچا ان کا خرچ برداشت کریں گےاوریہ ان کے ذمہ اس وقت تک لازم ہے جب تک بچیوں کا نکاح نہ ہوجائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کماقال الله تعالي وَعَلَى ٱلۡوَارِثِ مِثۡلُ ذَٰلِكَۗ البقرة: 233
أحکام القرآن للتہانوی: "المراد بالوارث وارث الولد؛ فإنه یجب علیه مثل ما وجب علی الأب من الرزق والکسوۃ بالمعروف إن لم یکن للولد مال - إلی قوله - وخص الإمام أبو حنیفة ہٰذا الوارث بمن کان ذا رحم محرم من الصبي، وبه قال حماد".(403/1، ط: کراتشی)
و فی الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» : ونفقة ‌الإناث ‌واجبة ‌مطلقا ‌على ‌الآباء ‌ما ‌لم ‌يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة.»(1/ 563)
و فی الهداية في شرح بداية المبتدي» : " والنفقة لكل ذي رحم محرم إذا كان صغيرا فقيرا أو كانت امرأة بالغة فقيرة أو كان ذكرا بالغا فقيرا زمنا أو أعمى " لأن الصلة في القرابة القريبة واجبة دون البعيدة والفاصل أن يكون ذا رحم محرم وقد قال الله تعالى: {وعلى الوارث مثل ذلك} [البقرة: 233] وفي قراءة عبد الله ابن مسعود رضي الله عنه وعلى الوارث ذي الرحم المحرم مثل ذلك ثم لا بد من الحاجة والصغر والأنوثة والزمانة والعمى أمارة الحاجة لتحقق العجز فإن القادر على الكسب غني بكسبه بخلاف الأبوين لأنه يلحقهما تعب الكسب والولد مأمور بدفع الضرر عنهما فتجب نفقتهما مع قدرتهما على الكسب.
قال: " ويجب ذلك على مقدار الميراث ‌ويجبر ‌عليه " لأن التنصيص على الوارث تنبيه على اعتبار المقدار ولأن الغرم بالغنم والجبر لإيفاء حق مستحق.»(2/ 293)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 79096کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات