السلام علیکم
میرا مسئلہ یہ ہے کے میری دو بیٹیا ں ہیں اور میرے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے ۰اب میرے دیور نے دعویٰ کر دیا ہے کہ بیٹا نا ہونے کی وجہ میرے مرحوم شوہر کی جائیدادمیں ان کا حصہ بنتا ہے ۰جو کہ شریعت میں ہے ۰ اب اگر میں ان کو حصہ دے دوں تو گھر بک جائے گا۰اور میں اور میری بیٹیاں کہاں رہیں گی ۰ ہم با پردہ خواتین ہیں ۰
میرے کچھ سوال ہیں ۔دیور کا کتنا حصہ بنتا ہے ؟یہ حصّہ شریعت میں کیوں ہے ؟حصہ دینے کے بعد ہم کہاں رہیں گے ؟ہماری ذمہ داری اب کس پر ہے ؟میری بیٹیوں کی شادی اب کون کرائےگا ؟
برائے مہربانی تفصیل سے جواب دیں .
واضح ہوکہ شریعتِ مطہرہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ عادلانہ نظام ہے، جس کے ہر حکم میں کامل حکمت اور بے پایاں رحمت پوشیدہ ہے۔ وراثت کا نظام محض ایک معاشی تقسیم نہیں، بلکہ خاندانی توازن، حقوق کی حفاظت، اور سماجی عدل کا مظہر ہے۔ بعض اوقات انسان کو بظاہر یہ احکام سخت یا خلافِ مصلحت محسوس ہوتے ہیں، لیکن انہی کی اتباع میں دنیاوی واخروی فلاح کا راز مضمر ہے۔
قرآن کریم میں ارشادہے :
ءَابَآؤُكُمۡ وَأَبۡنَآؤُكُمۡ لَا تَدۡرُونَ أَيُّهُمۡ أَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعٗاۚ فَرِيضَةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمٗا النساء: 11
ترجمہ :تم نہیں جانتے کہ تمہارے لیے کون نفع رساں ہے، یہ اللہ کی طرف سے فرض کیا ہوا قانون ہے۔
اس مختصرتمہیدکے بعدسائلہ کے سوالات کے جوابات ترتیب وارذکرکیے جاتے ہیں ؛
(1)اگر کسی ایسے شخص کا انتقال ہو جائے جسکی نرینہ اولاد اوروالدموجودنہ ہو ، تو اس نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ چھوڑا ہواس میں اس کی بیوہ ، بیٹیوں اوروالدہ (اگرزندہ ہوں )کے ساتھ شرعاً اسکے زندہ بہن بھائی بھی حصہ دار بنتے ہیں ،لہذاصورت مسئولہ میں مرحوم کی نرینہ اولادنہ ہونے کی وجہ سےبیوہ اوراس کی دونوں بیٹیوں کے شرعی حصہ کی ادائیگی کے بعدجوکچھ بچ جائے وہ مرحوم کے بہن ،بھائیوں کےدرمیان "للذکرمثل حظ الانثین"(مردکوعورت سے دگناملنےکاقانون )کے قاعدے کے مطابق تقسیم کیاجائیگا،اس لیے سائلہ کے دیورکااپنے مرحوم بھائی کے ترکہ میں حصہ کادعوی کرناشرعاًدرست ہے۔
(2)دیوربچیوں کا ولی ہے ،اگران بچیوں کونفقہ کی ضرورت ہوتوان کاچچااس کاذمہ دارہے ،چونکہ وہ بوقت ضرورت نفقہ کاذمہ دارہے توان ذمہ داریوں سے تعلق کی وجہ سے بوقت وراثت حصہ بھی پاتاہے ۔
(5۔3) مرحوم کی بیوه(سائلہ ) کے اخراجات تواس کےسسرال میں سےکسی پر لازم نہیں ہيں ،خوداس کے خاندان ،والد،بھائی وغیرہ پرہیں البتہ یتیم بچیوں كے پاس اگراپنامال نہ ہوتوان کی کفالت اور پرورش کی شرعاً ذمہ داری ان کے دادا پر ہوتی ہے، اس کی عدم موجودگی کی صورت میں ان کے چچا ان کا خرچ برداشت کریں گےاوریہ ان کے ذمہ اس وقت تک لازم ہے جب تک بچیوں کا نکاح نہ ہوجائے۔
کماقال الله تعالي وَعَلَى ٱلۡوَارِثِ مِثۡلُ ذَٰلِكَۗ البقرة: 233
أحکام القرآن للتہانوی: "المراد بالوارث وارث الولد؛ فإنه یجب علیه مثل ما وجب علی الأب من الرزق والکسوۃ بالمعروف إن لم یکن للولد مال - إلی قوله - وخص الإمام أبو حنیفة ہٰذا الوارث بمن کان ذا رحم محرم من الصبي، وبه قال حماد".(403/1، ط: کراتشی)
و فی الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» : ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة.»(1/ 563)
و فی الهداية في شرح بداية المبتدي» : " والنفقة لكل ذي رحم محرم إذا كان صغيرا فقيرا أو كانت امرأة بالغة فقيرة أو كان ذكرا بالغا فقيرا زمنا أو أعمى " لأن الصلة في القرابة القريبة واجبة دون البعيدة والفاصل أن يكون ذا رحم محرم وقد قال الله تعالى: {وعلى الوارث مثل ذلك} [البقرة: 233] وفي قراءة عبد الله ابن مسعود رضي الله عنه وعلى الوارث ذي الرحم المحرم مثل ذلك ثم لا بد من الحاجة والصغر والأنوثة والزمانة والعمى أمارة الحاجة لتحقق العجز فإن القادر على الكسب غني بكسبه بخلاف الأبوين لأنه يلحقهما تعب الكسب والولد مأمور بدفع الضرر عنهما فتجب نفقتهما مع قدرتهما على الكسب.
قال: " ويجب ذلك على مقدار الميراث ويجبر عليه " لأن التنصيص على الوارث تنبيه على اعتبار المقدار ولأن الغرم بالغنم والجبر لإيفاء حق مستحق.»(2/ 293)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0