شریعت کے مطابق لڑکے اور لڑکی کا کیا حصہ باپ کی جائیداد میں بنتا ہے شکریہ
والدجب تک حیات ہوتب تک تواسکی جائیدادمیں کسی بیٹے ،بیٹی کاحصہ نہیں ہوتاالبتہ والدکی وفات کے بعدان کے ترکہ کوبطورمیراث تقسیم کرتے ہوئےبیٹوں کا حصہ بیٹیوں کے بنسبت دوگنا ہوتا ہے۔
چنانچہ قرآن کریم میں ہے:
"يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ) سورۃ النساء،آیۃ11(
ترجمہ:اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے بارے میں تم کوحکم دیتا ہےکہ:مردکاحصہ دوعورتوں کےبرابرہے۔ (آسان ترجمہ قرآن )
لہذاکسی شخص کےانتقال کےبعد جلدازجلدشریعت کےمطابق میراث تقسیم کرکے اس کی اولاد(چاہے لڑکاہویالڑکی) کوان کا حصہ شرعی کی ادائیگی لازم وضروری ہے۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0