سر !میری بہن نے رو برو گواہاں میرے والد صاحب کی پراپرٹی میں حصہ مجھے معاف کردیا تھا، اب میری ان سے لڑائی ہوگئی ،تو انہوں نے کورٹ میں شیئر کلیم کردیا ، کیا یہ اسلامی احکامات کی خلاف ہے جب کہ میری بہن نے وراثتی حصہ میرے والد صاحب کی زندگی میں مجھ سے لے لیا تھا ۔جس کو میں حلفاً بیان کررہا ہوں، اب اس کے بعد اس کا بد نیت ہوناکیا اسلام میں جائز ہے ؟
واضح ہوکہ ورثاء میں سے کسی ایک وارث کا اپنا حصہ معاف کردینے سے وہ حصہ معاف اور ختم نہیں ہوتا ، بلکہ معاف کردینے کے باوجود وہ اپنے شرعی حصہ کا حقدار ہوتا ہے، جبکہ زندگی میں والد اگر اپنی جائیداد اولاد میں تقسیم کردے تو اس کی وجہ سے اولاد والد کی وراثت سے محروم نہیں ہوتی ،لہٰذ صورتِ مسئولہ میں سائل کی بہن کا صرف زبانی طور پر اپنا حصہ معاف کرنا شرعاً معتبر نہیں ہے، بلکہ وہ بدستور اپنے حقِ وراثت کا مطالبہ کر سکتی ہے۔
جبکہ سائل کا یہ کہنا کہ میری بہن نے والد کی زندگی میں اپنا حصہ مجھ سے لے لیا تھا،یہ تقسیمِ وراثت نہیں، بلکہ والد کی طرف سے یہ "ہبہ" (تحفہ یا گفٹ) شمار ہوگا، کیونکہ وراثت کا استحقاق مورث کی وفات کے بعد ہی شروع ہوتا ہے۔لہٰذا سائل پر لازم ہے کہ وہ اپنی بہن کو والد کے ترکہ سے اس کا مکمل شرعی حصہ ادا کرکے اخروی مشکلات سے سبکدوشی کی فکر کرے۔
کما فی تکملۃ حاشیۃ ابن عابدین: الارث جبري لا يسقط بالاسقاط اھ ( باب التحالف، ج: 8، ص: 116، ناشر: دار الفکر )-
کما فی شرح المجلۃ : المادۃ 1092- کما أن أعیان المتوفی المتروکۃ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصھم کذلک یکون الدین الذی لہ فی ذمۃ شخص مشترکاً بینھم علی حسب حصصھم إلخ ( الکتاب العاشر : فی انواع الشرکات، ج: 4 ، ص: 27 ، ناشر: دار الکتب العلمیۃ )-
و فی الدر المختار : و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح اھ ( کتاب الھبۃ، ج: 5، ص688، ناشر: دار الفکر )-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1