وضو

کسی ڈرامہ کا ترجمہ کرنے کی آمدن کا حکم

فتوی نمبر :
79347
| تاریخ :
2024-11-15
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

کسی ڈرامہ کا ترجمہ کرنے کی آمدن کا حکم

السوال:
محترم!میں ایک مترجم کے طور پر "کرولش عثمان" سیریز پر کام کر رہا ہوں، جو کہ ایک تاریخی ڈرامہ ہے۔ میری ذمہ داری اس سیریز کے مکالمات کے اردو ترجمے کی اصلاح کرنا ہے۔ یہ ترجمہ قیادت پلے کی ٹیم کی جانب سے فراہم کردہ ہوتا ہے، اور میں اسے بہتر اور درست کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس میں میرے کام کی تفصیل یہ ہے:
میرے کام کی نوعیت:
1. سپاہیوں کے مناظر اور جنگی مکالمات:
میں ان مکالمات کی اصلاح کرتا ہوں جو سپاہیوں کے درمیان ہوتے ہیں، اور ان میں زیادہ تر تاریخی واقعات، مزاح اور جنگی حکمت عملی پر بات چیت ہوتی ہے۔
2. قبیلے کی خواتین کے مکالمات:
خواتین کے درمیان ہونے والی بات چیت کی اصلاح، جن میں عام طور پر قبیلے، اور تجارت کے موضوعات شامل ہوتے ہیں۔
3. دشمن کے مکالمات:
دشمن کے کرداروں کے درمیان ہونے والی بات چیت اور ان کے مکالمات کی درستگی۔جن میں زیادہ تر مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کے منصوبے بنانا شامل ہوتا ہے۔
4. میاں بیوی کے آپس کے مکالمات:
یہ مکالمات کبھی کبھار آتے ہیں اور عام طور پر محبت بھرے الفاظ، خاندانی مسائل، یا مشورہ پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان میں کوئی فحش یا بے حیائی کی بات نہیں ہوتی۔

میرا سوال:
1. مواد کی نوعیت کے حوالے سے:
میری سمجھ کے مطابق، اس کام میں میں کوئی نیا مواد شامل نہیں کر رہا ہوں، بلکہ پہلے سے موجود ترجمے کی اصلاح کر رہا ہوں۔ یہ مکالمات زیادہ تر تاریخی، ثقافتی، اور جنگی نوعیت کے ہوتے ہیں، اور ان میں اسلامی اقدار کے خلاف کوئی چیز عموماً نہیں ہوتی۔ کیا ایسی اصلاح جائز ہے؟
2. معاوضہ لینے کے حوالے سے:
چونکہ میں ترجمے کی اصلاح اور ادبی مواد کی بہتری کے لیے کام کر رہا ہوں، اس کا معاوضہ لینا شرعی لحاظ سے کیسا ہے؟ میری نیت یہ ہوتی ہے کہ میں ترجمہ صحیح اور درست بنا سکوں، تاکہ ناظرین کو بہتر سمجھ حاصل ہو۔
3. احتیاطی تدابیر:
اگر کبھی کسی ایسے منظر یا مکالمے کا سامنا ہو جو اسلامی اقدار کے خلاف ہو تو عموماً قیادت پلے کی ٹیم اس حصے کو حذف کردیتی ہے۔ کیا اس طریقے سے کام کرنا کافی ہے، یا مجھے کچھ مزید احتیاطی تدابیر اپنانی چاہئیں؟
خلاصہ کلام:
میری کوشش ہوتی ہے کہ میں ترجمے کی اصلاح کرتے وقت اسلامی اصولوں کا خیال رکھوں۔ براہ کرم مجھے اس بارے میں شرعی رہنمائی فراہم کریں کہ کیا میرا یہ کام جائز ہے، اور اس کا معاوضہ لینا درست ہے؟
جزاک اللہ خیراً!
آپ مجھے سے مزید تفصیلات پوچھنا چاہیں یا اس کومجھے مکمل تفصیل سے آگاہ کرنا چاہیں تو دیئے گئےنمبر پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ شکریہ
0321-7878961

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق اگر واقعی سائل کا کام صرف فراہم کردہ ترجمہ کی اصلاح، جملوں کی درستگی، اور الفاظ کی ادبی بہتری تک محدود ہو اور اس میں خود ساختہ من گھڑت الفاظ، اسلامی شعائر کا استہزاء یا اخلاق کے منافی مواد کی تشہیر یا توثیق نہ ہوتی ہو تو سائل کے لیے مذکور کام کرنے کی گنجائش ہے ،البتہ اس کو مستقل ذریعہ معاش بنانے سے احتراز بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی احکام القرآن للجصاص تحت قوله تعالى: {وتعاونوا على البر والتقوى} يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان طاعة لله تعالى; لأن البر هو طاعات الله. وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي ‌عن ‌معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى الخ(المائدة، ج:3، ص:296، ط:داراحياء التراث العربي)۔
و فی الشامیۃ: وما كان سببا لمحظور فهو محظور الخ(‌‌كتاب الحظر والإباحة،ج:6،ص:350،ط: سعید)۔
و فی فقه البیوع: إن لم يُعرف في المخلوط من الحلال والحرام أنهما متميزان أو مختلطان، وكم حصة الحلال في المخلوط؟ فالأولى التنزه، ولكن يجوز التعامل بذلك المخلوط إذا غلب على الظن أن المتعامل به لا يتجاوز قدر الحلال الخ (1054/2، ط: معارف القرآن)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد شاہ کریم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 79347کی تصدیق کریں
0     684
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات