، جنابِ عالی!
گزارشِ عرض یہ ہے کہ میں آ پ کے انتظامیہ سے اپنے مسائل بیان کرتے ہوئے کہنا چاہتی ہوں کہ ہم چار بھائی اور تین بہنیں ہیں،میرے والداوروالدہ کا انتقال 2019 میں ہوچکا ہے،جن میں سےمیرے دو بھائیوں کا انتقال بالترتیب 2009/2015 میں ہوگیا تھا،(مرحوم) رحیم کے تین بچے ،اور (مرحوم )عبدالکریم کے پانچ بچے ہیں ۔
میری گزارش ِ عرض یہ ہے کہ میرے والد کا مکان انکے نام پر لیز ہوا ہے،میرےایک بھائی اپنی مرضی سے ہمیں مکان کا حصہ تقسیم کررہے ہیں،جس پر ہم بھائی بہنوں کی رضامندی شامل نہیں ہے،براہِ مہربانی آپ انتظامیہ جائز حصہ مقرر کرکے ہمیں اطلاع کردیں ،تاکہ ہمیں اور ہمارے مستحقین کو جائزحصہ مل جائے،مکان کی کل مالیت(38 لاکھ )کی ہے۔
نوٹ: والد کے ورثاء میں بوقتِ انتقال دو بیٹے اور تین بیٹیاں موجود تھیں، اور جو بیٹے والد کی زندگی میں انتقال کر گئے ہیں،ان کی بیوہ اور بچوں کو اس میں حصہ دینا ہے یا نہیں؟
واضح ہوکہ جس بیٹے کا انتقال والد کی زندگی میں ہوجائے،تودیگر قریبی ورثاء کی موجودگی میں مرحوم بیٹے کی اولادشرعاً دادا مرحوم کے ترکے میں حصہ دار نہیں ہوتی ،لہذا سائلہ کے والد ِمرحوم کی زندگی میں جن دو بیٹوں کا انتقال ہوچکاہے،ان کی بیواؤوں اوراولاد کاشرعاً مرحوم کے ترکے میں حصہ نہیں، البتہ اگر سائلہ اور اس کے دیگر بہن بھائی عاقل وبالغ ہوں ،اور ترکے میں سے یا کوئی وارث اپنے ذاتی حصے سے مرحوم بھائیوں کی بیواؤوں اور ان کی اولاد کو کچھ دینا چاہے، تو شرعاً ایسا کرنا جائز بلکہ باعثِ اجر وثواب ہوگا،تاہم ایسا کرنا ان کے ذمہ لازم اور ضروری نہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے والدِ مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجودہ ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگاکہ مرحوم کے بوقتِ انتقال مذکور مکان سمیت جوکچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد،سونا، چاندی،زیورات،نقد رقم اور ہر قسم کاچھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،اس میں سے سب سے پہلےمرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداہوتو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحو م نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(3/1)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے،اس کے کل (7) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کو دو(2) حصے ،جبکہ ہر بیٹی کوایک (1) حصہ دیا جائے -
کما فی الشامیۃ:وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقةً أو حكمًا كمفقود أو تقديرًا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل، والعلم بجهل إرثه". ( كتاب الفرائض ٦/ ۷۵٦ ط:سعيد)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1