زید کا انتقال جون2012میں ہوا ورثا میں 2بیوہ 6ابن9بنت چھوڑے ہیں ۔کل جائیداد کی مالیت 7لاکھ 20ہزارہے اب ورثا میں شرعی قسیم کیسے ہوگی ۔ 2: اسوقت جائیداد کو صرف بھائیوں نے تقسیم کی ہے اور بیواؤں اور بیٹیوں کو محروم رکھا ہے اب کل جائیداد کی قیمت4320000لاکھ ہے اب صرف ایک بھائی اپنے ماں اور بہنوں کو حصہ دینا چاہتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کہ میں یعنی ایک بھائی اپنے بہنوں کو اس وقت کی قیمت کا حساب دےیا اب موجودہ قیمت سے حصہ دے؟اور ایک بھائی اپنے بہنوں کو کو شرعاً کیسے دے؟تفصیل کے ساتھ جواب ارسال کریں
واضح ہوکہ بیٹوں کی طرح بیٹیاں بھی اپنے والدین کےترکہ میں سے حصہ میراث کا شرعی حقدار ہوتی ہیں ، انہیں ا نکے حصہ میراث سے محروم کرنا شرعاً نا جائز بلکہ قابلِ مؤاخذہ جر م ہے ۔ لہذا سائل او ر اس کے بھائیوں کا والد کا ترکہ آپس میں تقسیم کرکے اپنی بہنوں اور بیواؤں کو ان کا شرعی حصہ نہ دینا ظلم ہونے کے ساتھ غیر شرعی طرز عمل تھا جس کی وجہ سے وہ سب گنہگار ہوچکے ہیں۔ لہذااولاً تو زید کے بیٹوں پر لازم ہے کہ اس غیر شرعی تقسیم کو ختم کرکے از سر نو مکمل ترکہ موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق بیواؤں اور بیٹیوں سمیت تمام ورثاء کے درمیان اصول میراث کے مطابق تقسیم کرلیں۔
تاہم اگر سائل کے دیگر بھائی ازسر نو تقسیم پر کسی بھی صورت آمادہ نہ ہوں، لیکن سائل گلو خلاصی کیلئے اپنے حصہ میں سے دیگر ورثاء کا حصہ دینا چاہتا ہو، تو ایسی صورت میں سائل اور ان کے بھائیوں نے ترکہ کی مکمل رقم آپس میں برابری کے ساتھ تقسیم کیاہو اس طور پر کہ مرحوم کے کل ترکہ کو چھ برابر حصوں میں تقسیم کرکے ہر بھائی کو ایک ایک حصہ دیا گیا ہو، اور اب سائل کے والد مرحوم کی میراث میں سے جو چیز جائیداد پراپرٹی وغیرہ موجود ہو،تومجموعی ترکہ میں سے سائل کو ملنے والے چھٹے حصے میں سائل فقط آدھے حصہ کا حقدار ہے، جبکہ بقیہ آدھا حصہ کے آٹھ برابر حصہ کرکے آٹھواں حصہ دونوں بیواؤں کے درمیان برابر آدھا آدھا تقسیم کریں، جبکہ بقیہ سات حصوں کے برابر نو حصے بنا کرہر بہن کو ایک ایک حصہ دیدیں۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0