سر، مجھے اسلامی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ میرے دادا کی ایک پراپرٹی ہے جو 8 مرلہ کی ہے۔ دادا کی دو شادیاں تھیں۔ پہلی دادی سے 3 بیٹیاں اور 2 بیٹے ہیں، جبکہ دوسری دادی سے 1 بیٹا اور 1 بیٹی ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ رجسٹری پر دادا کا نام غلط ہے، جسے درست کروانے کے لیے پٹواری 3.5 لاکھ روپے مانگ رہا ہے۔ میرا اپنا گھر 600 اسکوائر فٹ ہے، جو میں نے اپنی کمائی سے بنایا ہے۔ مجھے اس وقت پیسوں کی ضرورت ہے، اور میں گھر بیچنا چاہتا ہوں، لیکن کوئی بھی شخص نام درست کروانے کے لیے رقم دینے کو تیار نہیں ہے۔ سب لوگ بس فائدہ اٹھانے کے چکر میں ہیں۔ میرے ابو اور میری پھوپھو کا حصہ جو بنتا ہے، وہ 472.5 اسکوائر فٹ ہے۔ دوسری پھوپھو نے 63.21 اسکوائر فٹ کا حصہ دیا ہے، لیکن باقی حصہ، جو مجھے 600 اسکوائر فٹ مکمل کرنے کے لیے چاہئیے ، وہ 64.28 اسکوائر فٹ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ باقی پھوپھیاں نہ تو حصہ دیں گی اور نہ ہی تعاون کریں گی، بلکہ صرف مسئلہ پیدا کریں گی۔ میری دادی دادا سے پہلے وفات پا چکی تھیں، اس لیے شرعی طور پر ان کا حصہ نہیں بنتا۔ لیکن مسائل سے بچنے کے لیے میں نے ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ دادا کے بعد کا بنوایا تاکہ ان کا بھی حصہ نکال سکوں اور اپنا 600 اسکوائر فٹ پورا کر سکوں۔ دوسری طرف، میں اپنی جیب سے 3.5 لاکھ روپے لگا رہا ہوں، لیکن کسی نے بھی مالی تعاون نہیں کیا۔ کیا میں اس طرح کر سکتا ہوں؟ کیا یہ میرے لیے گناہ ہوگا؟ کیونکہ ورنہ میں یہاں سے کبھی نہیں نکل سکوں گا اور مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔ اس علاقے میں جگہ کی قیمت تقریباً 9 لاکھ روپے فی مرلہ ہے۔ 900,000 ÷ 225 = 4,000 فی اسکوائر فٹ بنتا ہے۔ مجھے جو جگہ درکار ہے، وہ 64.28 × 4,000 = 257,120 روپے بنتی ہے۔ میرے لگائے گئے پیسے: 350,000 - 257,120 = 92,880 روپے پھر بھی میرے بنتے ہیں۔ اہم نکات: دادا کا سارا سامان، بینک بیلنس، اور دیگر چیزیں میرے سوتیلے تایا اور سوتیلی پھوپھو نے آپس میں تقسیم کر لیں۔ ہمیں کوئی حصہ نہیں دیا گیا۔ مزید ایک جگہ 2.5 مرلہ کی ہے، جس پر دادا کا نام ہے، اور وہ بضد ہیں کہ وہ جگہ بھی ہمیں نہیں دیں گے۔ اب اگر میں اس طریقے سے کام کرتا ہوں تو کیا کوئی شرعی مسئلہ ہوگا؟ کیونکہ باقی لوگ نہ تو میرا ساتھ دے رہے ہیں اور نہ ہی وہ چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ حل ہو۔
واضح ہو کے دادا مرحوم نے اپنے انتقال کے وقت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد چھوڑا ہے، وہ سب ان کا ترکہ ہے، جس میں ان کے تمام موجود ورثاء میں حسب حصص شرعیہ حقدار ہیں اور ان میں یہ ترکہ حسب حصص شرعیہ تقسیم کرنا لازم ہے، کسی بھی وارث کے لیے جائز نہیں کہ وہ ترکہ میں دیگر ورثاء کے حصہ پر قابض ہو کر انہیں ان کے حصہ شریعہ سے محروم کرے، وگرنہ مؤاخذہ اخروی سے سبکدوشی حاصل نہ ہو سکے گی، لہذا سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سوتیلے تایا و پھوپھو کو ترکہ میں سے بعض جائیداد پر اکیلے قابض ہو جانا جائز نہیں، بلکہ ان پر اس کی تقسیم حسب قانون شرعی لازم ہے، نیز اسی طرح سائل کے لیے بھی دھوکہ دہی کے ذریعے غیر وارث کو وارث ثابت کر کے اس کے حصہ کے نام پر ترکہ میں بعض جائیداد پر قابض ہونا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے، لہذا فریقین کو چاہیے کہ وہ کسی مستند دارالافتاء سے رجوع کر کے جائیداد اور ورثاء کی مکمل تفصیل اور اس کی تقسیم میں پیش آنے والے مشکلات سامنے رکھ کر حکم شرعی معلوم کر کے اس پر عمل کریں۔
و في مشکاۃ المصابیح: (عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين)۔(كتاب البيوع ، باب الغصب والعارية ، الفصل الأول، ج:1، ص:254، ط:قديمي)۔
و في مشکاۃ المصابیح: (عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة) رواه ابن ماجه۔(باب الوصايا، الفصل الثالث، ج:1، ص:266، ط:قديمي)-
و في البحر الرائق :لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي الخ۔(کتاب الحدود، ج:5، ص:44، ط: دار الکتاب الإسلامي)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1