میرے دادا کا ۲۰۰۵ء میں انتقال ہو چکا ہے، ۱۹۹۲ءمیں اُن سے میں نے بطور قرض ۱۰ لاکھ روپے لیے ،اپنے بزنس میں بڑے نقصان کی وجہ سے اور ڈھائی لاکھ میں نے لوٹا دیے ، لیکن ساڑھے سات لاکھ کی ادائیگی ممکن نہ ہو سکی ہیں ،آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ قرضے کی رقم اُن کی بیوہ کو ادا کی جائیگی یا نہیں؟ ملحوظ رہے کہ آج کل میں نوکری کر رہا ہوں ۔
واضح رہے کہ بقیہ مذکور رقم سائل کے ذمہ واجب الاداء قرض ہے، اُسے چاہیئے کہ وہ دادا مرحوم کے ورثاء کو یہ رقم لوٹا کر اپنے ذمہ کو فارغ کرلے ۔ اور اگر ورثاء میں سائل کا والد بھی شامل ہو تو اس کے حصہ کی مد میں اسے منہا کیا جا سکتا ہے۔
ففي شرح المجلة للأتاسى : كما أن أعيان المتو في المتروكة مشتركة بين الورثة على حسب حصصهم كذلك يكون الدين الذي له في ذمة شخص مشتركا بينهم على حسب حصصهم اھ (۴/ ۳۰)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1