علماء کرام کی بارگاہ میں سوال ہے کہ:
کیا فرماتے ہیں علماء اسلام اس بارے میں کہ ایک شخص مسلمان ہے، لیکن کچھ قادیانیوں کو جو دین سے جاہل ہوں، اُنہیں کافر نہیں سمجھتا، کہتا ہےکہ وہ قادیانی جنہوں نے دین کو سمجھا نہیں یا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے آخری نبی ہونے کے دلائل نہیں بتائے گئے، وہ قادیانی کافر نہیں۔
وہ استدلال کرتا ہے اُن لوگوں پر جو جنگل بیابان میں رہیں اور جنہیں اسلام کی دعوت نہیں پہنچیں ،وہ کافر نہیں۔
اسکا ایسا عقیدہ رکھنا کیسا ہے، اور ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔شکریہ۔
واضح ہوکہ قادیانی فرقہ مرزاغلام احمد قادیانی کو اپنے باطل عقائد میں سچاماننے کی وجہ سےنہ صرف کافرہے بلکہ زندیق اور دائرہ اسلام سے خارج ہے،
جبکہ سائل کے دوست کادین سے جاہل قادیانیوں کو کافر نہ سمجھنےپر استدلال کےطور پر ان لوگوں کو پیش کرنا جنہیں اسلام کی دعوت نہ پہنچی ہو،یہ نظریہ لاعلمی اور جہالت پر مبنی ہے ،اس لئےکہ جن لوگوں کوجنگل بیاں بان وغیرہ میں رہنے کی وجہ سے واقعۃ اگر اسلام کی دعوت نہ پہنچی ہواگرچہ وہ احکام شرعیہ فرعیہ کے مکلف نہ ہونگے،تاہم ان پر بھی لازم ہے کہ وہ دلائل قدرت کے روز مرہ مشاہدہ کی بنیاد پر اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اللہ تعالی کی وحدانیت کو تسلیم کریں اور اس کے ساتھ کسی کے شریک نہ ہونےکا عقیدہ اپنائیں ،چنانچہ وہ لوگ بھی اگر عقیدہ توحید کو نہ مانتے ہوں اور بت پرستی وغیرہ میں مبتلا ہوں تو مشرک ہی ٹھہریں گے اور آخرت میں عند اللہ جواب دہ بھی ہوں گے۔
کما فی تفسیر روح المعانی: روي عن أبي حنيفة رضي الله تعالى عنه أنه قال: لو لم يبعث الله تعالى رسولا لوجب على الخلق معرفته الخ(سورۃ بنی اسرائیل،الایۃ 21، ج8،38،دار الکتب العلمیۃ بیروت)۔
وفی البدائع: وأصل المسألة أن الكفار لا يخاطبون بشرائع هي: عبادات عندنا الخ(کتاب الحج،فصل شرائط فریضۃ الحج،ج2،ص120،ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی نور الانوار شرح المنار: والصحيح أنهم لا يخاطبون بأداء ما يحتمل السقوط من العبادات أي المذهب الصحيح لنا: أن الكفار لا يخاطبون بأداء العبادات التي تحتمل السقوط مثل الصلاة والصوم، فإنهما يسقطان عن أهل الإسلام بالحيض والنفاس ونحوهما؛ لقوله عليه السلام لمعاذ حين بعثه إلى اليمن: "لتأتي قوما من أهل الكتاب، فادعهم إلى شهادة أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، فإن هم أطاعوك فأعلمهم أن الله فرض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة''الحديث، فإنه تصريح بأنهم لا يكلفون بالعبادات إلا بعد الإيمان، وأما الإيمان فلما لم يحتمل السقوط من أحد لا جرم كانوا مخاطبين به اھ(مبحث الخاص،بیان موجب الامر فی حق الکفار، ج1، ص168، ط:مکتبۃ البشریٰ)۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: وأما الزنديق: فهو الذي يظهر الإسلام، ويستسر بالكفر، وهو المنافق، كان يسمى في عصر النبي صلى الله عليه وسلم منافقاً، ويسمى اليوم زنديقاً، وهو يختلف عن المنافق في السعاية بالفساد والدعوة السرية لهدم الإسلام وتشكيك المسلمين بعقائدهم (الباب السادس المیراث،الفصل الخامس، ج10، ص7722،ط:دار الفکر)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1