کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، جن کے ورثاء میں بیوہ، چار بیٹے اور چھ بیٹیاں موجود ہیں، ان کے ترکہ کی تقسیم شرعی اعتبار سے کیسے ہوگی؟ رہنمائی فرمائیں، جبکہ ہمارے والد کے انتقال کے بعد ہمارے چاروں چچاؤں نے ترکہ کی تقسیم صرف بھائیوں میں کرلی، جس میں انہوں نے اپنی تین بہنوں (ہماری پھوپھیوں) کو حصہ نہیں دیا، اب ہم صرف والد کو ملے ہوئے حصہ میں سے اپنی پھوپھیوں کا حصہ جو ہمارے والد کے ذمہ بنتا ہے، وہ دینا چاہتے ہیں، لہذا آپ رہنمائی فرمائیں کہ ہم اپنی پھوپھیوں کو کس قدر حصہ دیں کہ ہم اور ہمارے والد اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو پائیں۔
نوٹ: ورثاء میں پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں، اور کل ترکہ سات کروڑ اسی لاکھ تھا، جس میں سے ہمارے والد کے حصہ میں ایک کروڑ چھپن لاکھ روپے آئے ہیں، اب اس رقم میں سے ہم اپنی پھوپھیوں کو کتنی رقم دیں گے؟
واضح ہو کہ سائل کے دادا مرحوم کے انتقال کے بعد ان کا ترکہ جلد از جلد تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کر کے اس فریضہ سے سبکدوشی کی فکر کرنی چاہیےتھی، تاہم سائل کے والد کے انتقال کے بعد چچاؤں کا اپنے مرحوم والد کا ترکہ صرف بھائیوں میں تقسیم کر کے بہنوں کو محروم رکھنا شرعاً ناجائز وحرام اور گناہ کبیرہ ہے، اور یہ تقسیم بھی درست نہیں ہوئی، لہذا ورثاء پر لازم ہے کہ مرحوم والد کا ترکہ تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعی تقسیم کر کے اس فریضہ سے سبکدوشی کی فکر کریں، بصورت دیگر بہنیں اپنے حق کی وصولیابی کی خاطر قانونی چارہ جوئی کی بھی مجاز ہوں گی، تاہم اگر سائل اپنی پھوپھیوں کو والد کے حصہ میں آنے والی رقم میں سے حصہ دینا چاہتا ہو ، اپنا شرعی حصہ (ایک کروڑ بیس لاکھ) رکھ کر بقیہ رقم ( چھتیس لاکھ روپے) اپنی پھوپھیوں کو برابر برابر دیدے، تو اس سے سائل کا والد مرحوم بری الذمہ ہو جائیگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والد مر حوم کا ترکہ ان کے ورثاء کے درمیان اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد ، سونا چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم والد کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم والد نے کوئی جائز وصیت کی ہو ، تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کے کل سولہ (16) حصے بنائے جائیں، جن میں سے بیوہ اور ہر بیٹے کو دو (2) حصے ، اور ہر بیٹی کو ایک حصہ دیا جائے۔
کما فی صحیح البخاری: حدثني عبيد بن إسماعيل، حدثنا أبو أسامة، عن هشام، عن أبيه، عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل، أنه خاصمته أروى في حق زعمت أنه انتقصه لها إلى مروان، فقال سعيد: أنا أنتقص من حقها شيئا أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين» (4/107 رقم 3198 باب ما جاء في سبع أرضين ط دار طوق النجاة)۔
وفی الھدایۃ: قال: "وإذا كان كل واحد من الشركاء ينتفع بنصيبه قسم بطلب أحدهم" لأن القسمة حق لازم فيما يحتملها عند طلب أحدهم على ما بيناه من قبل "وإن كان ينتفع أحدهم ويستضر به الآخر لقلة نصيبه، فإن طلب صاحب الكثير قسم، وإن طلب صاحب القليل لم يقسم" لأن الأول ينتفع به فيعتبر طلبه، والثاني متعنت في طلبه فلم يعتبر وذكر الجصاص على قلب هذا لأن صاحب الكثير يريد الإضرار بغيره والآخر يرضى بضرر نفسه وذكر الحاكم الشهيد في مختصره أن أيهما طلب القسمة يقسم القاضي، والوجه اندرج فيما ذكرناه والأصح المذكور في الكتاب وهو الأول "وإن كان كل واحد منهما يستضر لصغره لم يقسمها إلا بتراضيهما" لأن الجبر على القسمة لتكميل المنفعة، وفي هذا تفويتها، وتجوز بتراضيهما لأن الحق لهما وهما أعرف بشأنهما. أما القاضي فيعتمد الظاهر. الخ ( ج 4 ص 327 ط: بیروت)۔
وفی شرح المجلۃ: المادة (1160) - (إذا تبين الغبن الفاحش في القسمة تفسخ وتقسم ثانية قسمة عادلة) . الخ ( ج 3 ص 63 ط: دارالجیل)۔
وفیہ ایضاً: المادة (1072) - (ليس لأحد الشريكين أن يجبر الآخر بقوله له: بعني حصتك أو اشتر حصتي. غير أنه إذا كان الملك المشترك بينهما قابلا للقسمة والشريك ليس بغائب فله أن يطلب القسمة وإن كان غير قابل للقسمة فله أن يطلب المهايأة كما سيجيء تفصيله في الباب الثاني) . الخ ( ج 3 ص 24 ط: دارالجیل)۔
وفیہ ایضاً: (كل واحد من الشركاء في شركة الملك أجنبي في حصة الآخر ولا يعتبر أحد وكيلا عن الآخر فلذلك لا يجوز تصرف أحدهما في حصة الآخر بدون إذنه، أما في سكنى الدار المشتركة وفي الأحوال التي تعد من توابع السكنى كالدخول والخروج فيعتبر كل واحد من أصحاب الدار المشتركة صاحب ملك مخصوص على وجه الكمال. الخ ( ج 3 ص 28 ط: دارالجیل)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0