مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ! گذارش ہے کہ میں سرکاری ملازمت کرتا ہوں؟ مجھ پر کافی قرضہ ہے، باقی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ، جن کا قرض ہے ، وہ قرض کی واپسی کا شدت سے تقاضا کر رہے ہیں؟ اور واپسی کی دی جانے والی تاریخ بھی گزر چکی ہے ، اس صورتِ حال میں کیا میں اپنی تنخواہ ایڈوانس لے سکتا ہوں جس کے لیے مجھے سود بھی ادا کر نا پڑے گا۔
سائل کا اپنے محکمے سے سود پر ایڈوانس تنخواہ وصول کر ناشر عاً جائز نہیں، جس سے سائل کو اجتناب لازم ہے، بلکہ سائل کو چاہیے کہ قرضہ جات کی ادائیگی کے لیے اپنے اخراجات کو محدود کر کے یا کوئی جائز طریقہ اختیار کر کے کوئی بندو بست کرلے اور اسکے ساتھ " اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَاغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سَواک ‘‘اس دعاء کا کثرت سے اہتمام کرے، ان شاء اللہ امید ہے کہ اللہ تعالی آسانی فرمائے ۔
قال اللہ تعالی: ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأُذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ ﴾الآية (البقرة: 279/278)
وفي الصحيح المسلم: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكِلَ الرِّيَا وَمُؤْكِلَهُ، قَالَ: قُلْتُ: وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ قَالَ: إِنَّمَا نُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْنَا: الحديث (۳/1218) والله اعلم بالصواب!
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0