کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والد مرحوم نے اپنے ترکے میں دیگر جائیداد کے ساتھ تین دکانیں بھی چھوڑیں ہیں، اس طرح پر کہ مکان نمبر ایک کا کل سرمایہ اپنا تھا، اور دوسری میں سرمایہ کسی دوسرے شخص کا تھا، اور محنت اپنی تھی، جبکہ تیسری دکان کا آدھا سرمایہ اپنا اور آدھا سرمایہ کسی دوسرے کا تھا، یہ دکانیں والد صاحب کی اپنی ملکیت تھیں، اور پانچوں بیٹے اس میں کام کرتے تھے ،والد صاحب کی حیات میں بھی اور وفات کے بعد بھی کرتے رہے،پانچوں بھائی مرحوم کی بلڈنگ میں الگ الگ فلیٹ میں رہائش پذیر ہیں،بیٹوں نے والد کے کاروبار کو مزید بڑھایا ،اور کاروبار بڑھانے کے لئے دکان نمبر سوم میں ورثاء کے علاوہ کسی اور کو شریک کیا، اور اس شریک کو مستقل طور سے ان کی آمدنی بھی دیتے رہے ،اب چند ماہ قبل حساب کیا تو معلوم ہوا کہ ان صاحب کا سرمایہ میں نقصان ہو چکا ہے، اب یہ نقصان کیا مرحوم کے ترکہ سے ادا کیا جائے؟
اور اول دکان کے شرکاء کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی نجی ضروریات کے لیے قرض اُٹھائے ہیں۔ جناب پوچھنا یہ ہے کہ اب تقسیم جائیداد کے وقت کون کون سے قرضے اور نقصان مشترکہ جائیداد اور ترکہ سے منہا کیے جائیں گئے اور کون کون سے نہیں؟ جبکہ ذاتی ضروریات کی بنا پر قرض لینے والوں کا کہنا ہےکہ ہم نے اپنی ضرورت مشتر کہ کاروبار کی آمدنی تقریباً ختم ہو جانے کیوجہ سے قرض لیکر ضرورت پوری کیا ہے۔ اس لیے یہ قرض میں مشترکہ ترکہ سے وصول ہونا چاہیئے، کیا شرعاً یہ مطالبہ درست ہے یا نہیں ؟ واضح رہے کہ دکان نمبر دو میں کچھ سرمایہ موجود ہے اور ان بھائی کا کہنا ہے کہ یہ سرمایہ میں نے اپنے نام لکھ کر لیا ہے اب اس سرمایہ کا بھی شریعت کی روشنی میں حل بتائیں کہ یہ سرمایہ ترکہ سے ہوگا یا نہیں؟
واضح ہو کہ مرحوم کے ترکہ اور اس کے اندر ہونے والے اضافہ میں تمام ورثاء ہمارے یہاں سے جاری ہونے والے فتوی نمبر ۲۵۵۵۳ میں مذکور تفصیل کے مطابق حصہ دار ہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف نکالنے کے بعد ترکہ سے صرف وہی قرضے منہا ہوں گے، جو مرحوم نے خود کسی سے لیے ہوں، یا وہ قرضے جو کسی وارث نے مشترکہ کاروباری یا نجی مقاصد کیلئے دوسرے شرکاء کی اجازت سے لیے ہوں ،اور جو قرضے کسی شریک نے ذاتی اغراض کیلئے اور دوسروں کی اجازت کے بغیر لیے ہیں ،تو ان کا اس سلسلہ میں مطالبہ کرنا درست نہیں ۔ اسی طرح جس بھائی نے دوکان کے اثاثوں کو اپنے نام کر دیا ہے اس کا یہ فعل بھی نا جائز اور حرام ہے اُسے بھی اپنے اس ناجائز مطالبہ سے احتراز لازم ہے۔ اس طرح مشترکہ کاروبار میں جو نقصان ہوا ہے اگر کسی شریک کی غفلت، اور کوتاہی اور بے پرواہی کی بناء پر ہوا ہے تو امانت ضائع کرنے کی وجہ سے وہی شخص اس نقصان کا بھی ذمہ دار ہوگا اور اس نقصان کو مشترکہ مال سے منہا نہیں کیا جائےگا۔
البتہ جو نقصان قدرتی آفات وغیرہ کی وجہ سے ہوا ہے اسے اس دوکان کے مشترکہ کاروبار سے برداشت کیا جائےگا اور اگر اصل میں بھی نقصان ہوا ہو تو اُسے بقیہ ترکہ سے بھی برداشت کیا جا سکتا ہے۔ واللہ أعلم بالصواب!
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1