کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میری بہن کا انتقال ہو گیا ہے،بوقتِ انتقال ان کے ورثاء میں والدین دو بھائی اور شوہر حیات ہیں ،اولاد نہیں ہے،میری بہن کی ذاتی ملکیتی چیزیں اور جائیداد وغیرہ مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائیگا۔
سائل کی بہن مرحومہ کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال مذکور جائیداد سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، نقدی ، زیورات، مال تجارت اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ، یہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے ،مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف اس کے شوہر پر لازم ہیں ، چنانچہ اگر یہ مصارف شوہر نے یا کسی اور نے بطور تبرّع ادا کردیے ہوں، تو اب یہ ترکہ سے منہا نہ ہوں گے، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ہو تووہ ادا ءکریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پرعمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل چھ(6) حصے بنا ئےجا ئیں ، جس میں سےمرحومہ کے شوہر کوتین(3)حصے،والد کودو(2)حصے ,جبکہ والدہ کو ایک(1)حصہ دیا جائے۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1