احکام وراثت

عرصہ پینتالیس سال سے غائب ہونے والی عورت کی میراث کا حکم

فتوی نمبر :
80170
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / ترکات / احکام وراثت

عرصہ پینتالیس سال سے غائب ہونے والی عورت کی میراث کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:ایک عورت مسماۃ ۔۔۔بنتِ محمد عثمان بروہی کی آج سے تقریباً پینتالیس(45) سال قبل شادی ہوئی اور شادی کے ایک سال بعد باہمی گھریلو ناچاقی کی وجہ سے شوہر سے علیحدہ ہوکر اپنے والدین کے گھر آگئی اور چند ہی دنوں میں وہاں سے بھی غائب ہوگئی، اس کے غائب ہوتے ہی اس کے والدین اور دیگر عزیز و اقارب نے اس کی تلاش شروع کردی، مگر اس کا کہیں سراغ نہیں ملا اور تقریباً پینتالیس سال(45) گزر چکے،مگر اس کا کچھ پتہ نہیں چلا، جبکہ اس دوران آج سے تقریباً پندرہ بیس سال قبل اس کے والد کا بھی انتقال ہوگیا ہے، جس کی جائداد کی تقسیم ابھی ہورہی ہے۔
اب آنجناب سے معلوم یہ کرنا ہے کہ مذکورہ خاتون جو پیدائش سے اب تک تقریباً ستر سال عمر کی ہوچکی ہے، اور اس کے غائب ہوئے پینتالیس سال گزر چکے ہیں، مگر ابھی تک مفقود بمعنی غائب ہے، معلوم نہیں کہ زندہ بھی ہے یا فوت ہوگئی ہے، اس کا علم سوائے اللہ کے ہم پورے خاندان میں سے کسی کو بھی نہیں ہے، اپنے والد کی جائداد میں حقدار ہوگی یا نہیں؟ اگر ہوگی تو اس کا حصہ کیونکر محفوظ رکھا جاسکتا ہے؟جبکہ ستر سال عمر بھی بیت چکی ہے اور یہ حصہ کب تک محفوظ رکھا جائے گا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً درست ہے کہ مسماۃ مذکورہ کے غائب ہونے سے لے کر اب تک اسے تلاش کیا گیا،جو تقریباً پینتالیس سال کا عرصہ گزر گیا ہے اور اس کا کچھ پتہ نہیں چلا اور اس سلسلہ میں عدالت سے رجوع کرکے اسے مردہ کے حکم میں بھی تسلیم نہیں کیا گیا تو اب اس کے میراث پانے کے حق میں متاخرین علماء کے قول کے مطابق اس کی ساٹھ ستر سال زندگی تصور کرکے اس کے مال کو اس کے ورثاء میں تقسیم کر لیا جائے اور اسی طرح کسی مورث سے حصہ پانے کے اعتبار سے اسے بھی مردہ تسلیم کرلیا جائے تو اس امر کی بلاشبہ گنجائش ہے، نیز مذکورہ خاتون بھی سنِ پیدائش سے اب تک چونکہ ستر سال کی عمر یقیناً پاچکی ہے، اس لئے مذکورہ بالا حکم کے مطابق عمل کرنا بہتر معلوم ہوتا ہے، جبکہ والدِ مرحوم کے ترکہ میں اس کی حصہ داری ہوگی،جومرحومہ کے ورثاء میں حسبِ حصصِِ شرعیہ تقسیم ہوگأ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الشامیة: وقيل يقدر بتسعين سنة بتقديم التاء من حين ولادته واختاره في الكنز، وهو الأرفق هداية وعليه الفتوى ذخيرة، وقيل بمائة، وقيل بمائة وعشرين، واختار المتأخرون ستين سنة واختار ابن الهمام سبعين لقوله - عليه الصلاة والسلام - «أعمار أمتي ما بين الستين إلى السبعين» فكانت المنتهى غالبا. وذكر في شرح الوهبانية أنه حكاه في الينابيع عن بعضهم. قال في البحر: والعجب كيف يختارون خلاف ظاهر المذهب مع أنه واجب الاتباع على مقلد أبي حنيفة. وأجاب في النهر بأن التفحص عن موت الأقران غير ممكن أو فيه حرج، فعن هذا اختاروا تقديره بالسن اهـ (4/296)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 80170کی تصدیق کریں
0     702
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات