محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم! میں مزمل یعقوب پولانی بحیثیت مالک مندرجہ بالا اداره , گیس کا جنریٹر منگوا رہا ہوں ،جو کہ میری موجودہ فیکٹری کو چلانے کے لئے کار آمد اور مفید ہوگا، اس جنریٹر کی کل مالیت 1280۰0 ڈالر ہے، جو کہ بوقتِ موجودہ 86 سے 87 روپے کے درمیان تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ آٹھ ہزار(11008000 ) روپے ہوگی، میرے پاس اس جنر ٹیر کی ادائیگی کے لئے آدھی رقم موجود ہے، اور مزید آدھی رقم بطورِ قرض اورکس لیزنگ والوں سے لینا چاہتا ہوں ۔ اورکیس لیزنگ والے یہ رقم 3 سال کے لئے بطورِ قرض ادا کریں گے ،اور 36 قسطوں میں رقم کے علاوہ 1800000 زائد رقم وصول کریں گے۔
جبکہ ماہانہ قسط کی رقم کی مقدار 202889 ہے۔ مہربانی فرما کر میری رہنمائی کریں ،اور بتائیں کہ اس طرح سے پیسے کمپنی سے لینا اور قسطوں میں ادائیگی بمعہ زائد رقم کے شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟شکریہ!
سوال میں مذکور طریقہ کے موافق معاملہ کرنا تو خالص سودی معاملہ ہے، جو نا جائز و حرام اور واجب الاحتراز ہے۔ البتہ اگر مذکورکمپنی یا میزان بینک وغیرہ کو اس جنریٹر کی خریداری میں شریک کر لیا جائے ،اور وہ شراکت داری کے بعد اپنا شیئرز کم و بیش قیمت طے کر کے قسطوں میں سائل پر فروخت کر دے ،اور سائل طے شدہ قسطیں ادا کرتا ر ہے، اور کسی قسط کے مؤخر ہونے کی صورت میں مزید کوئی جرمانہ وغیرہ بھی وصول نہ کیا جائے، تو یہ معاملہ شرعاً بھی جائز اور درست شمار ہوگا۔ اور سائل کو ایسے ہی معاملہ کرنا چاہیئے۔
ففي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم اھ (5/ 166) ۔
وفي تكملة فتح الملهم: عن فضالة بن عبيد موقوفا : (كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا) (إلى قوله) وتكون كل زيادة على القرض ربا، سواء اتضح لنا وجه الظلم فيها، أولم يتضح (إلى قوله) أن الرباحرام مطلقا، اھ(۱/ ۵۷۵)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0