کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے بینک سے سود پر قرضہ لیا ہے، اسلام میں یہ حرام ہے ، لیکن اس کے بغیر میرے پاس اپنا کاروبار کرنے کے لیے کوئی پیسہ نہیں ہے، میں ایک سال سے کاروبار کر رہا ہوں، اور ہر ماہ قسط ادا کرتا ہوں،اب میں اس کاروبار کو بیچنا چاہتا ہوں، کیونکہ میں دوسرا کاروبار شروع کرنا چاہتا ہوں ، اب اگر میں کاروبار بیچتا ہوں، تو میرے پاس ہے ،جو بینک سے قرضہ کے طور پر لی ہے، میں پورا قرضہ واپس کرنا چاہتا ہوں ،لیکن اگر میں سب واپس کرتا ہوں، تو میرے پاس کاروبار شروع کرنے کے لیے کوئی رقم نہیں بچتی، میں کیا کروں، کیونکہ مجھے علم ہے کہ سود اللہ عظیم سے لڑنا ہے ،اور اس کے پیغمبر سے لڑائی ہے، کیا کوئی ایسی جگہ ہے جہاں سے سود سے پاک قرضہ مل سکے؟
قرض لے کر کاروبار کرنا شرعاً کوئی ضروری نہیں، اور پھر سودی معاملات اختیار کر کے کاروبار کرنا تو بلاشبہ ناجائز اور حرام ہے، سائل پر لازم ہے کہ سودی معاملہ ختم کرے، اور بینک کی تمام واجب الاداء رقم اُسے واپس کرے۔
اور اگر کوئی شخص یا ادارہ اسے بلا سود قرض دینے کے لیے آمادہ ہو تو ان سے قرض لینے کے بعد کاروبار کیا جا سکتا ہے، ورنہ کوئی جائز اور مناسب ملازمت اختیار کی جا سکتی ہے۔ والله أعلم بالصواب!
قال اللہ تعالیٰ: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (آل عمران: 130)۔
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء". رواه مسلم (2/ 134) ۔
وفي الدر المختار: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0