محترم مفتی صاحب السلام علیکم!
گزارش یہ ہے کہ ایک مسئلہ پوچھنا ہے کہ میرا کمبل کا کام ہے، ہمارے کام میں مال کے ۴۵ دن کے ریٹ الگ ہوتے ہیں، ۹۰ دن کے ریٹ الگ ہوتے ہیں، ۱۲۰ دن کے ریٹ الگ ہوتے ہیں۔
میں نے ایک شخص کو ۴۵ دن کا ادھارپر مال بیچا تھا ،اس نے ۹۰ دن میں بھی پیسے نہیں دیے، میں نے بہت اصرار کیا اور کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ ۴۵ دن اور ۹۰ دن کے ریٹ الگ الگ ہوتے ہیں، آپ نے ۱۲۰ دن میں بھی رقم نہیں دی ہے۔ اب ریٹ بڑھ جائیں گے، تو اس شخص نے کہا آپ ریٹ بڑھا دو میرے پاس پیسے نہیں ہے، اور اب میں کچھ عرصے بعد دے دوں گا، اب اس کو مال دیے ہوئے تقریباً ایک سال سے اوپر ہو گیا ہے۔
مسئلہ نمبر۱: یہ ریٹ زیادہ لینا جائز ہے کہ نہیں؟ شرعی طور پر رہنمائی فرمائیں۔
۲: اس شخص کے لیٹ رقم دینے کی وجہ سے مجھے کافی نقصان ہوا ہے؟
قرض دار کا بلاوجہ ادائیگئ قرض میں ٹال مٹول سے کام لینا اگرچہ ظلم اور گناہ کی بات ہے، جس پر احادیثِ مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اس لئے اُسے اپنے مذکور ناجائز طرز ِعمل سے احتراز لازم ہے، مگر جو ریٹ طے ہوئے تھے ،قرض خواہ کے لئے اس سے زائد کا مطالبہ کرنا جائز نہیں، اس سے بھی احتراز لازم ہے۔
قال الله سبحانه وتعالى: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)۔
وفي مصنف عبد الرزاق: عن بن سيرين قال استقرض رجل من رجل خمس مئة دينار على أن يفقره ظهر فرسه فقال بن مسعود ما أصبت من ظهر فرسه فهو ربا اھ (8/ 145)۔
وفي تكملة فتح الملهم: عن فضالة بن عبيد موقوفا : (كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا) اھ(۱/ ۵۷۵)۔
وفي صحيح مسلم للنيسابوري: عن أبى هريرة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال «مطل الغنى ظلم وإذا أتبع أحدكم على ملىء فليتبع». (5/ 34)۔
وفي بحوث في قضايا فقهية معاصرة: والمعلوم أن طلب الزیادة فی الثمن لیزید فی الأجل لا یجوز لکونه اھ (ص: ۲۳۵)۔
وفيھا أیضا: هذا القسم من الدين المؤجل في مقابل الزمان غير جائز شرعا في رأى عامة الصحابة والتابعين وائمة المذاهب الأربعة لأنہ شبيه بالزيادة الربوية ولأنه جعل للزمان مقدارا من الثمن بدلا منه لانه فى حالة الزيادة الربوية الظاهرة لما زاد له في الزمان اھ (ص: ۲۳۵) ۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0