کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے کہ میں نے اپنی محنت و مزدوری سے کچھ مال و جائیداد کمایا ہے،اس کے متعلق آپ حضرات سے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا میری زندگی میں اس مال و جائیداد میں میری بیوی کا کوئی حصہ ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ اس میں جس طرح چاہے جائز تصرف کر سکتا ہے، اس کی زندگی میں اس کے مال و جائیداد میں کسی کا کوئی حق نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے ذمہ اپنا مال و جائیداد تقسیم کرنا لازم اور ضروری ہوتا ہے،لہذا سائل کے مال و جائیداد میں اگر اس کی بیوی نے اپنا ذاتی مال شامل نہ کیا ہو، بلکہ خالص اس کی محنت مزدوری ہو تو اس کی زندگی میں نان و نفقہ کے علاوہ اس مال میں بیوی کا کوئی حصہ نہیں اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کر سکتی ہے،البتہ اگر سائل اپنی مرضی اور خوشی سے اپنے مال و جائیداد میں سے اپنی بیوی کو کچھ دینا چاہے تو شرعاً ایسا کرنا جائز ہے، اور یہ اس کی طرف سے بیوی کے لئے ہبہ اور گفٹ کہلائے گا ۔
کما فی الشامیۃ: (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، و إن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه و سلمها كذلك لاتصح، و بعكسه تصح في الطعام و المتاع و السرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن و صدقة؛ لأن القبض شرط تمامها و تمامه فى العمادية إلخ۔ (ج: 5، ص: 690،ط: سعيد)-
و فیها ایضاً: و شروطہ ثلاثة :موت مورث حقیقۃً او حکماً کمفقود او تقدیراً کجنین فیہ غرۃ، و وجود وارثہ عند موتہ حیاً حقیقۃً او تقدیراً إلخ۔ (ج: 6، ص: 756،ط: سعيد)-
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0