میں اپنے والد کی جائیداد سے متعلق ایک معاملے میں آپ سے رہنمائی چاہتا ہوں۔ صورتِ حال کچھ یوں ہے: کہ میرے والد نے سال 2007 کے آس پاس ایک گھر بنانا شروع کیا، اس وقت میں نے ابھی اپنی پڑھائی مکمل کی تھی اور گھر کی تعمیر کے لئے تقریباً $130,000 رقم بھیجی تھی، یہ رقم کل تعمیراتی لاگت کا تقریباً پچاس فیصد ہے، اس وقت مجھے واضح طور پر یاد نہیں ہے کہ اس رقم کے بارے میں میرا ارادہ کیا تھا؟ چاہے یہ میرے والد کو تحفہ کے طور پر یا گھر کے اپنے حصے میں حصہ ڈالنے کے طور پر تھا، تاہم جب گھر 2012 کے قریب مکمل ہوا مجھے واضح طور پر یاد ہے کہ میرا ارادہ واضح ہو چکا تھا، اس رقم کو گھر میں میرا حصہ سمجھا جانا تھا، یہ میرے لئے ایک نوجوان پیشہ ور کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والی ایک اہم رقم تھی، اور مجھے یقین ہے کہ اس وقت میرا مقصد اسے تحفہ دینا نہیں تھا، بلکہ اسے گھر کے تعمیر شدہ حصے میں اپنا حصہ سمجھنا تھا، بدقسمتی سے مجھے اپنے والد کے ساتھ ان کی زندگی میں اس پر باضابطہ بات کرنے کا موقع نہیں ملا، ان کی وفات کو دو سال بیت گئے اور اب ہم ان کی جائیداد کو شریعت کے مطابق آباد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اب میں اسلامی قانون کی روشنی میں یہ سمجھنا چاہتا ہوں کہ آیا یہ رقم جو میں نے بھیجی ہے اسے میرے والد کے لئے تحفہ سمجھا جائے اور اس لئے ان کی جائیداد کا ترکہ سمجھا جائے؟ یا 2012 میں میرے واضح ارادے کی بنیاد پر یہ ترکہ کا حصّہ نہیں سمجھا جائے گا؟ میں آپ سے اس معاملے میں شریعت کے مطابق رائے کی درخواست کرتا ہوں۔
سائل نے جب والد مرحوم کو مذكور رقم دیتے وقت قرض کی یا واپس لینے کی صراحت نہیں کی تھی اور مکان کی تعمىر كے بعد بھی والد سے اس متعلق کوئی تصفىہ یا وضاحت نہیں ہوئی تھی تو مذكور رقم ہبہ قرار پائے گی اور مکان والے کی ملکیت شمار ہوگا، اور ان کے انتقال کے بعد وه ان کے تركہ میں شامل ہو کر تمام مستحق ورثاء مىں ان کے حصص شرعی کے مطابق تقسیم کیا جائے گا، البتہ اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اور باہمی رضامندی سے سائل کی رقم کو بطور حق یا حصہ تسلیم کر کے اس کو دینے پر آمادہ ہو جائیں تو یہ بھی جائز ہے۔
کما فی الدر المختار: (عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك (ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) في البناء فلا رجوع له ولو اختلفا في الإذن وعدمه، ولا بينة فالقول لمنكره بيمينه، وفي أن العمارة لها أو له فالقول له لأنه هو المتملك كما أفاده شيخنا. اهـ
وفي رد المحتار قوله: (عمر دار زوجته إلخ) على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها جامع الفصولين، وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له، وله رفعه إلا أن يضر بالبناء، فيمنع ولو بنى لرب الأرض، بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعا كما مر اهـ [كتاب الخنثى، مسائل شتى، ج:6 ص:747 ط: سعيد]
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2