کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ جلال خان مرحوم کے چار بیٹے ہیں، ان کی زمین چار جگہ پر منقسم ہے الگ الگ، جبکہ مرحوم نے تین جگہ زمین اپنے چار بیٹوں پر تقسیم کر دیا ہے، ان چاروں میں سے ایک نے اپنا حصہ بیچ دیا ہے ،ابھی والد صاحب کی ایک جگہ زمین باقی ہے جو تقسیم نہیں ہوئی، اب مرحوم کے چوتھے بیٹے نے اپنا حصہ بیچ دیا ہے اور اس میں وہ جگہ بھی بیچ دی جو ابھی تقسیم نہیں ہوئی تھی ،کیا یہ بیع درست ہو سکتی ہے یا نہیں؟ مفصل جواب سے سرفراز فرمائیں۔
نوٹ: والدہ اور تین بھائیوں کی رضا مندی چو تھے بھائی کے زمین بیچنے میں شامل نہیں تھی ، قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلّل جواب دیں ۔ نیز یہ بھی واضح ہو کہ والد مرحوم کا انتقال ہو چکا ہے اور مذکور بھائی نے یہ معاملہ اُن کے انتقال کے بعد کیا ہے۔ اور دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر کیا ہے ۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کے بھائی نے اپنے ذاتی حصہ میں جو بیع کی ہے یہ بلاشبہ درست منعقد ہوگئی ہے۔ البتہ والد مرحوم کے ترکہ میں سے جتنے حصۂ زمین کی بیع دیگر ورثاء کی باضابطہ اجازت و رضامندی کے بغیر کی ہے اور دیگر ورثاء عاقل وبالغ بھی ہوں تو اس صورت میں یہ بیع ان کی اجازت پر مو قوف ہوگی ۔ اب صورتِ مسئولہ میں دیگر ورثاء کی چونکہ اجازت ورضامندی نہیں پائی جا رہی اور نہ ہی وہ اجازت دینے پر رضا مند ہیں (جیسا کہ ان کا زبانی بیان ہے) تو اس صورت میں دیگر ورثاء کے حصہ میں یہ بیع شرعاً منعقد نہیں ہوئی ۔ اس پر لازم ہے کہ ان کے حصہ میں عقد ِبیع کو ختم کرکے وہ حصہ ورثاء کے حوالہ کرے تاکہ مواخذۂ آخرت سے بھی سبکدوشی حاصل ہو۔ ورنہ مذکور ورثاء اپنے حق کی خاطر دیگر قانونی اور مؤثر ذرائع اختیار کرنے کے بھی مجاز ہوں گے۔
کمافی البحر: ان بیع الشائع یجوز فیما یقسم ومالایقسم اھ(7/286)۔
وفی الھدایۃ: ومن باع ملک غیرہ بغیر امرہ فالمالک بالخیار ان شاء اجاز البیع وان شاء فسخ اھ(3/88)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1