السلام و علیکم :جناب مفتی صاحب !عرض خدمت یہ ہے کہ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے ان کی واحد ملکیت ان کا ذاتی گھر ہے، جو فروخت کردیا ہے ، ورثاء میں ہم 5 بہنیں ؛ 6 بھائی اور والدہ(بیوہ) ہیں ۔ براہ کرم فروخت کیےہوئے مال کی شرعی تقسیم میں راہنمائی فرمائیں
سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ اور غیر منقولہ مال و جائیداد سونا و چاندی، زیورات، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن و دفن کے متوسط مصارف اداکریں، چنانچہ یہ مصارف کسی اور نے بطورِ تبرع ادا کیے ہوں تو اب یہ ترکہ سے منہا نہ ہوں گے، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہویا اس نے بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل دو (2) حصے بنائیں ،جن میں سےبیوہ سترہ (17) حصے ،ہر بیٹے کو چودہ (14)حصے اور ہر بیٹی کو سات (7)حصے دئیے جائیں ، جیسا کہ درجِ ذیل نقشے سے بھی واضح ہو رہا ہے۔ مزید سہولت کے لئے فیصدی حصے بھی لکھ دیے گئے ہیں، ملاحظہ ہو !
مسئلہ:8/136 المضروب:17
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
1 7
17 119
14 14 14 14 14 14 7 7 7 7 7
٪12.5 ٪10.29 ٪10.29 ٪10.29 ٪10.29 ٪10.29 ٪10.29 ٪5.14 ٪5.14 ٪5.14 ٪5.14 ٪5.14