کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ مذکورہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب تین بھائی اور ایک بہن تھے، میرے دادا کے انتقال کے بعد جب وراثت تقسیم ہوئی ،تو اس میں میری پھوپھی کو حصہ نہیں دیا گیا، اور بھائیوں کے بیچ جو تقسیم ہوئی، وہ بھی ایسے ہی ہو گئی(غیر شرعی طور پر)، میرے والد کے حصے میں جو زمین آئی، وہ اور بھائیوں کے مقابلے کم تھی، جس کی وجہ سے والد صاحب ناراض بھی رہے، اب نہ میرے والد صاحب حیات ہیں، نہ ہی چچا اور نہ ہی پھوپھی، اب پوچھنا یہ ہے کہ والد صاحب کے حصے میں جو زمین آئی تھی، اس میں سے پھوپھی کے وارثین کو حصہ دینا ہوگا؟ اگر ہاں تو اسکی تقسیم کا طریقہ کیا ہوگا؟ کیونکہ والد کے انتقال کے بعد میری والدہ نے میری بڑی بہن کی شادی میں کچھ زمین بیچ دی تھی،کیا بیچی گئی زمین سے بھی پھوپھی کا حصہ دینا ہوگا؟ اگر ہاں تو آج کی قیمت کے اعتبار سے یا جس قیمت سے بیچا گیا تھا اس سے؟
واضح ہوکہ مورث کے انتقال کے بعدورثاء میں سے کسی ایک وارث یا چندورثاء کا کل ترکہ پر قبضہ کرکے بقیہ حقداروں کو ان کا حق نہ دینا سراسر ظلم، ناانصافی اور غصب پر مبنی عمل ہے،جس پر قرآن وحدیث میں سخت ترین وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
لہذا صورتِ مسؤلہ میں سائل کے دادا مرحوم کے انتقال کے بعد اگر واقعۃًسائل کے والد اور چچاؤں نے غیر شرعی طریقے پر جائیداد اپنے درمیان ہی تقسیم کر لی ہو، اور اپنی بہن (سائل کی پھوپھی)کو اس کےحصہ شرعی سے محروم رکھا ہوتوان کے لئے ایسا کرنا شرعاً ناجائز وحرام تھا ، جس کی وجہ سے وہ سب سخت گناہ گار ہوئے ہیں ،چنانچہ اب باقی ورثاء پر لازم ہے کہ دادا مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور زمین سمیت جو کچھ مال وجائیداد وغیرہ اپنے پیچھے چھوڑا تھا ،اور وہ جو سائل کے والد مرحوم کے حصہ میں زمین آئی تھی ،ان سب کی(اگر وہ زمین وجائیداد موجود ہو،ورنہ اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیوکے حساب سے ) قیمت لگا کر از سر نوتقسیم کر کے سائل کے والد مرحوم سمیت،چچاؤں اورپھوپھی کے تمام وارثین کو ان کا حصہ شرعی پہنچانا لاز م وضروی ہے۔(جس کا طریقہ کار درج ذیل ہے)۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے دادا مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگاکہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور زمین سمیت جوکچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد،سونا، چاندی،زیورات،نقد رقم اورہر قسم کاچھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،اس میں سے سب سے پہلےمرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر ان کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداہوتو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(3/1)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے،اس کے کل سات (7) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کےہر بیٹے کو دو دو(2) حصے ، جبکہ بیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے۔
أما الكتاب فقوله تعالى: ﴿إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما إنما يأكلون في بطونهم نارا﴾ (سورۃ النساء، الایہ:10)۔
وقال تعالى: ﴿يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم﴾ (سورۃالنساء،آلایہ:٢٩)۔
و فی المشکاۃ: وعن أنس رضی اللہ عنہ قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة ، رواه ابن ماجة ورواه البيهقي في شعب الايمان اھ (2/926)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1