وراثت کی تقسیم کے متعلق سوال ہے کہ اگر ایک بہن کی شادی نہیں ہوئی ہو تو اس کی شادی کے خرچ کی رقم بہن بھائی اپنی خوشی سے اپنے حصے میں سے دیں گے یا وراثت کی تقسیم سے پہلے اس کی شادی کا خرچ نکال کر پھر وراثت تقسیم ہوگی؟
اگر غیر شادی شدہ بہن کے پاس اپنا مال موجود ہو، خواہ وہ وراثت سے ملا ہو یا کسی اور جائز ذریعے سےحاصل ہواہو، تو اس کی شادی کے اخراجات اسی کے مال سے کیے جائیں گے، ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے اس کی شادی کے اخراجات ورثاء کی رضامندی کے بغیر ترکہ سے منہا کرنا شرعاً درست نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے۔
البتہ اگر تقسیم ترکہ سے قبل تمام عاقل بالغ ورثاء باہمی رضامندی سے اپنی بہن کی شادی کے لیے اخراجات منہا کرنا چاہیں یا تقسیم کے بعد ہروارث اپنے حصہ میں سے کچھ رقم غیر شادی شدہ بہن کی شادی کے لیے دینا چاہیں، تو یہ احسان اور صلہ رحمی کے زمرے میں آئے گا،جوناصرف باعث اجروثواب ہے، بلکہ اس کی ترغیب دی گئی ہے، لیکن کسی وارث کو اس پر مجبور کرناجائزنہیں ، جس سے احترازلازم ہے۔
کما فی دررالاحکام:شركة الملك هي كون الشيء مشتركا بين أكثر من واحد، أي مخصوصا بهم بسبب من أسباب التملك المبينة في المادة كالاشتراء والاتهاب أي قبول الهبة تقسیم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما، انظر المادةاھ(3/26)۔
و فی دررالحکام : (كل واحد من الشركاء في شركة الملك أجنبي في حصة الآخر و لا يعتبر أحد وكيلا عن الآخر فلذلك لا يجوز تصرف أحدهما في حصة الآخر بدون إذنه، الخ (1/96)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0