السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بعد از سلام مسنون عرض ہے کہ میں نے اپنے چھوٹے بھائی کی شادی اپنی چھوٹی سالی سے کرائی ۔ شادی کو تقریباً پندرہ سال کا عرصہ ہو گیا ہے۔ اس دوران وہ بیمار ہو گئی اس کا ایک گردہ نکال دیا۔ اس کے آٹھ سال بعد وہ پھر شدید بیمار ہو گئیں گردے کو ڈائیلائس کرنا شروع کر دیا۔ میں اس کو لیاقت اسپتال میں داخل کر دیا ، علاج شروع ہو گیا ۔ اس دوران میرے سسرال والوں نے مطالبہ کیا کہ اُسے ڈیرہ اسماعیل خان لے کر آؤں۔ یہاں علاج کروائیں گے۔ میں اپنی بھابھی کو بائی ایئر لے کر گیا، جب کہ پورے پاکستان سے لوگ زیادہ تر کراچی علاج کے لئے لاتے ہیں، اب میری بھانجی کا رشتہ میرے چھوٹے سالے کو دیا ہے۔ علاج کے دوران بھانجی مریض کے پاس تھیں۔ ڈاکٹروں نے لا علاج کر کے بھیج دیا۔ رات تقریباً دو بجے اس کا انتقال ہو گیا، مجھے اس وقت اطلاع نہیں دی ۔ صبح سات بجے اطلاع دی ۔ اس دن کراچی میں ہڑتالی تھی لیکن میری بیوی اور بڑا بیٹا یہ بیمار پڑگئے ان کو راستے میں اطلاع میں نے دی، مجھے ٹکٹ نہ مل سکا، گھر میں چھوٹے چھوٹے معصوم ہیں میں جنازہ کو نہیں پہنچ سکتا تھا ۔ لہٰذا میں اس وقت نہ جاسکا میری بیوی واپس آئی تو معلوم ہوا کہ سسرال والے کہتے تھے کہ وہ (یعنی میں ) ہماری بیٹی کا قاتل ہے۔ میں اپنے چچا کے ساتھ بعد میں تعزیت اور افسوس کے لئے گیا ۔ چچا کی موجودگی میں مجھے گھر سے نکال دیا مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا۔ ہم باہر سے ہی واپس کراچی آگئے آنے کے بعد میں نے اپنی بیوی اور بڑے بیٹے حافظ خورشید کو بھیجا۔ میرے بیٹے پر بھی قاتلانہ حملہ کیا اور بیٹا واپس آگیا، بھابھی کی وفات پر گاؤں میں ہم نے ہر قسم کا انتظام کیا قبر وغیرہ لیکن یہ میت لے کر ہمارے گھر نہیں لے کر گئے، بلکہ دوسرے گاؤں لے جا کر دفن کیا۔ اس سے قبل جو مجھ سے مبلغ سات لاکھ روپے لئے کہ آپ کے لئے ہم ڈیرہ اسماعیل خان میں پلاٹ دس مرلے کا لیتے ہیں لیکن اب میرے سات لاکھ روپے کی رقم پر مکر گئے ہیں، ہماری طرف تمہاری کوئی رقم نہیں ۔ میرا کہنا ہے کہ جرگہ فیصلہ کرے گا قرآن پر، بیماری پر جتنا روپیہ خرچ ہوا ہے میں دینے کے لئے تیار ہوں۔ لیکن میری یہ شرط ہے کہ میں اپنی میت لے جا کر اپنی زمین میں دفن کروں گا ۔ دینی لحاظ سے میرے لئے کیا حکم ہے ؟ تاکہ میں اس کے مطابق عمل کروں ؟ اب پوچھنا یہ کہ ان کا اس میت کو ہماری اجازت کے بغیر اپنے صوابدید پر دفن کرنا شرعاً کیسا ہے؟ اور کیا مجھے سات لاکھ کی رقم کی واپسی کا حق نہیں ہے؟
(نوٹ) اس بھابھی پر آنے والے اخراجات دینے کے لئے ہم تیار ہیں ۔ لیکن اس کی میت ہم وہاں سے منتقل کر کے اپنے مرضی سے دفن کرنا چاہتے ہیں کیا شرعاً اس کی اجازت ہے؟ جبکہ اس میت کے انتقال کا تقریباً چوتھا مہینہ چل رہا ہے فقط !
سائل سے ان کے سسرال نے پلاٹ کی خریداری کے لئے جو رقم (مبلغ سات لاکھ روپے) لی ہے، اس رقم سے پلاٹ خرید کر دینا یا یہ کل رقم اسے واپس کرنا سسرال والوں پر لازم ہے، ان کا مذکور طرزِ عمل خلاف شرع ہونے کے ساتھ انتہائی بداخلاقی کو شامل ہے ،اُن پر لازم ہے کہ سائل کا حقِ شرعی اسے دیکر مواخذۂ دنیوی و اخروی سے سبکدوش ہو جائیں، بصورتِ دیگر سائل اپنے حق کی وصولیابی کی خاطر قانونی چارہ جوئی کا بھی مجاز ہے۔ جبکہ وہ اخراجات جو سائل نے اپنی بھابھی کے علاج وغیرہ میں خرچ کیے ہیں جب اس نے اپنی ذمہ داری اور برادرانہ طور پر حق سمجھ کر کیے ہیں تو یہ اس کی طرف سے تبرع اور احسان ہے جس پر اُسے اجر ملے گا ۔ اس لئے اب ان اخراجات کی واپسی کا مطالبہ کرنا درست نہیں، اسی طرح والدین نے اپنی بیٹی کے علاج معالجہ پر جتنا خرچہ کیا ہے یہ ان کی طرف سے تبرع ہے اور اپنی بیٹی کے ساتھ نیکی ہے اس کا مطالبہ سائل یا اس کے بھائی سے کرنا درست نہیں اور شرعاً و قانوناً ان پر ان اخراجات کی ادائیگی لازم بھی نہیں ۔ جبکہ سائل کا یہ مطالبہ بھی درست نہیں کہ وہ چار ماہ بعد اپنی بھابھی کی میت اپنے گاؤں یا آبائی قبرستان منتقل کرے، اس میں میت کی بے احترامی کے ساتھ شرعاً بھی یہ ناجائز اور بے فائدہ عمل ہے اس لئے اس قسم کے مطالبہ سے بھی احتراز لازم ہے ۔ تاہم سسرال کی طرف سے اس پر یا اس کے بیٹے پر جو قاتلانہ حملے کیے گئے تھے بلا شبہ یہ ان کی بڑی حماقت اور دہشت گردی ہے اس پر انہیں اپنے داماد اور نواسے مذکور سے معذرت کرنا بھی لازم ہے اور یہ کہ آئندہ کے لئے ایسی نا جائز حرکات سے مکمل طور پر احتراز بھی لازم ہے ۔
ففي الدر المختار:مرضت عند الزوج فانتقلت لدار أبيها، إن لم يكن نقلها بمحفة ونحوها فلها النفقة وإلا لا كما لا يلزمه مداواتها. (3/ 575)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كما لا يلزمه مداواتها) أي إتيانه لها بدواء المرض ولا أجرة الطبيب ولا الفصد ولا الحجامة هندية عن السراج اھ (3/ 575)۔
وفي الدر المختار (ولا يخرج منه) بعد إهالة التراب (إلا) لحق آدمي ك (أن تكون الأرض مغصوبة أو أخذت بشفعة) (إلی قوله) ولا بأس بنقله قبل دفنه اھ (2/ 238)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله ولا بأس بنقله قبل دفنه) قيل مطلقا، وقيل إلى ما دون مدة السفر، وقيده محمد بقدر ميل أو ميلين لأن مقابر البلد ربما بلغت هذه المسافة فيكره فيما زاد. قال في النهر عن عقد الفرائد: وهو الظاهر اهـ وأما نقله بعد دفنه فلا مطلقا. قال في الفتح واتفقت كلمة المشايخ في امرأة دفن ابنها، وهي غائبة في غير بلدها فلم تصبر، وأرادت نقله على أنه لا يسعها ذلك، فتجويز شواذ بعض المتأخرين لا يلتفت إليه. وأما نقل يعقوب ويوسف - عليهما السلام - من مصر إلى الشام ليكونا مع آبائهما الكرام فهو شرع من قبلنا ولم يتوفر فيه شروط كونه شرعا لنا اهـ (2/ 239)۔