کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل لوگوں کے درمیان بی سی کمیٹی کے نام سے رقم جمع کرتے ہیں ، اور اس رقم پر کاروبار کرتے ہیں کیا یہ جائز ہے یا نا جائز ۔ بعض لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بہتر نہیں ہے، اس پر فتوی چاہیئے۔
کمیٹی کے سلسلے میں تمام شرکاء ہر ماہ مقرّر رقم جمع کر کے بذریعہ قرعہ اندازی کسی ایک شریک کو دیتے ہیں ، اور نتیجۃً تمام شرکاء کو یکے بعد دیگرے برابر رقم مل جاتی ہو، تو ایسی صورت میں بی سی کے نام سے شرکاء میں یکے بعد دیگرے رقم وصول کرنا اور اس رقم سے کاروبار کر نا شرعاً جائز اور درست ہے، تاہم اگر سائل کو اس کے متعلق کوئی شبہ ہو تو اس کی وضاحت کر کے سوال دوبارہ بھیج دیں، اس پر غور و فکر کے بعد ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائے گا۔
كما في الدر المختار: فصل في القرض (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه وهو أخصر من قوله (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة اھ (5/ 161)
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله ما تعطيه لتتقاضاه هـ) أي من قيمي أو مثلي، وفي المغرب تقاضيته ديني وبديني واستقضيته طلبت قضاءه واقتضيت منه حقي أخذته (قوله وشرعا ما تعطيه من مثلي إلخ) فهو على التفسيرين بمعنى اسم المفعول لكن الثاني غير مانع لصدقه على الوديعة والعارية، فكان عليه أن يقول لتتقاضى مثله، وقدمنا قريبا أن الدين أعلم من القرض (قوله عقد مخصوص) الظاهر أن المراد عقد بلفظ مخصوص، لأن العقد لفظ، ولذا قال أي بلفظ القرض ونحوه أي كالدين وكقوله: أعطني درهما لأرد عليك مثله، وقدمنا عن الهداية أنه يصح بلفظ الإعارة (قوله بمنزلة الجنس) أي من حيث شموله القرض وغيره، وليس جنسا حقيقيا، لعدم الماهية الحقيقية كما عرف في موضعه، واعترض بأن الذي بمنزلة الجنس قوله عقد مخصوص، وأما هذا فهو بمنزلة الفصل خرج به ما لا يرد على دفع مال كالنكاح وفيه أن النكاح لم يدخل في قوله عقد مخصوص أي بلفظ القرض ونحوه كما علمت فصار الذي بمنزلة الجنس هو مجموع قوله عقد مخصوص يرد على دفع مال تأمل اھ (5/ 161)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0