کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کا کاروبار دوبئی اور کراچی میں ہے دوبئی میں اقامہ اور کاروبار کے اجازت نامہ کے لئے اسے امارات اسلامی بینک اور دوسرے بینک میں زرِضمانت کے طور پر اچھی خاصی رقم جو یورو اور دراہم اور ڈالرز کی صورت میں تھی، رکھوانی پڑی، امارات اسلامی بینک اور دوسرے بینک نے اس رقم پر منافع ادا کیا اور امارت اسلامی بینک والوں کا کہنا ہے کہ ہمارا منافع شرعاً حلال ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ منافع کی رقم اس آدمی کے پاس اکاؤنٹ میں رکھی ہوتی ہے، اگر کوئی شخص مسجد و مدرسے کی تعمیر کے لئے اس رقم کو براہِ راست استعمال کرے یا اس رقم میں سے قرض لے کر اس کو تعمیر میں استعمال کرے اور بعد میں انتظام ہونے پر قرض واپس ادا کر دے تو شرعاً کوئی حرج تو نہیں ؟ بینوا توجروا
ہماری معلومات کے مطابق مذکور بنکوں کا پورا طریقہ کار اور کاروبار اصولِ شریعت کے موافق اور مکمل اسلامی نہیں۔ تاہم اگر متعلقہ بنک منیجر اور دیگر سینئر آفیسر یا شرعی ایڈوائز مذکور منافع کے ذریعۂ حصول کی بھی وضاحت کر دیں تو اس وضاحت پر کسی بھی معتمد دارالافتاء سے حکمِ شرعی بھی معلوم کیا جا سکتا ہے، جبکہ اس سے پہلے احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ ایسی رقوم کو اپنی یا تعمیر مسجد و مدرسہ کی ضروریات میں خرچ کرنے کی بجائے کسی واقعی مستحق کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدی جائیں۔ پھر وہ شخص اسے تعمیر مسجد وغیرہ میں خرچ کرے یا نہ کرے، اس کے لئے بہر دو امور جائز اور درست ہیں، البتہ ضرورتِ شدیده میں اس رقم کو مذکور تعمیرات کے لئے بطورِ قرض لینے کی گنجائش ہے۔
کمافی الشامیۃ: قال تاج الشریعۃ: اما لوانفق فی ذلک مالا خبیثاً ومالاً سببہ الخبیث والطیب فیکرہ لان اللہ لایقبل الا الطیب فیکرہ تلویث بیتہ بمالایقبلہ اھ(1/658)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0