کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید (جو کہ بینک سے پینشن وصول کرتا تھا)نے اپنی بیوی ہندہ کو وفات سے ایک سال قبل طلاق دیدی تو زید کے انتقال کے بعد وہی پیشن مطلّقہ ہندہ وصول کرتی رہی جبکہ بینک والوں کو طلاق کا علم نہیں تھا۔ تو آیا ہندہ بینک سے زید کی پیشن وصول کر سکتی ہے یا نہیں ؟ اور اب تک ایک سال کی جو بینک پینشن وصول کر چکی ہے اس کا کیا حکم ہے؟آیا بینک والوں کو واپس کر دے ، خود رکھے یا زید کے بیٹے کو دے دے ؟ اور اگر یہ رقم بینک کو لوٹانا ضروری ہو اور ہندہ نادار اور مفلس ہو تب بھی یہ رقم بینک کو لوٹانا ضروری ہو گا؟
پینشن کی رقم اگر چہ پینشن دینے والی کمپنی کی طرف سے ہر اُس شخص کے لئے عطیہ اور ہبہ کا حکم رکھتی ہے جسے وہ خود اپنے متعلقین میں سے نامزد کر دے اور وہ عموماً ملازم کے پسماندگان ہوتے ہیں۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں مرحوم نے اپنی بیوی کو وفات سے ایک سال قبل طلاق دیدی تھی ایامِ عدّت ختم ہونے کے بعد اس کا اپنے شوہر سے واسطہ اور تعلق بھی ختم ہو گیا۔ اور اس کے بعد شوہر کے فوت ہونیکی وجہ سے وہ پنشن وصول کرنے کی قطعاً حقدار نہیں، اور اب تک جو وہ ناجائز طریقہ سے لے چکی ہے اس کا مر حوم کے ورثاء کو لوٹانا اس کے ذمہ لازم ہے، اِلّا یہ کہ مرحوم کے تمام ورثاء عاقل و بالغ ہوں اور وہ بخوشی اسے معاف کرنا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے ، اور آئندہ کے لئے بھی وہی اس کےحقدار ہیں، اور اس کے نادار ہونے کی صورت میں متعلقہ بنک گزشتہ وصول کی جانے والی رقم، اپنی طرف سے شمار کرکے ورثاء کو ان کا پوراحق دینا چا ہے تو اس کابنک کو اختیار ہے اور اسے ایسا ہی کرنا چاہئیے۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0