اپنی مرضی سے ایک مکان جس کی قیمت 400 روپے ہے، اپنے بیٹے کے نام کرنا چاہتا ہوں ،اور اپنی بیٹی کو ایک لاکھ نقد رقم دینا چاہتا ہوں، میں اپنے بیٹے کے ساتھ رہائش پذیر ہوں، بعد میں جو کچھ میرے پاس ہوگا، وہ میرے بیٹے کا ہوگا، میری بیٹی کوئی دعوی نہیں کرے گی ،آیا یہ عمل کیسا ہے شریعت کی رو سے؟ برائے مہربانی مشورہ عنایت فرمائیں ہے۔
صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے ہر شخص اپنے مال وجائیداد کا تنہا مالک ہے، وہ اس میں اپنی مرضی سے جیسے چاہے تصرف کر سکتا ہے،نیز اس حال میں وہ جس کسی کو جو کچھ دیتا ہے ،وہ شرعاً ہبہ (گفٹ ) کہلاتا ہے ،جس کے تام ہونے کے لئے قبضہ شرط ہے ،اور اولاد میں ہبہ کے اندر برابری رکھنا مستحب اور بہتر ہے، اس کے بعد واضح ہو کہ شخصِ مذکور اپنی مرضی سے بغیر کسی جبر و اکراہ کے اپنا مذکور مکان اپنے بیٹے کو ہبہ کرنا چاہتا ہو تو اس سلسلہ میں محض نام کر دینا کافی نہیں، بلکہ اسے چاہیئے کہ اپنا قبضہ ختم کرکے مالکانہ قبضہ کے ساتھ یا مذکور مکان اس میں موجود جمیع سامان سمیت اسے ہبہ کردے، اسی طرح بیٹی کو بھی اس کی رقم پر باضابطہ مالکانہ قبضہ دیدے،تاکہ شرعاً بھی یہ ہبہ درست ہو سکے، پھر اگر مذکور شخص کی کوئی اور جائیداد وغیرہ نہ ہو اور وہ اپنے بیٹے کے ساتھ رہائش پذیر رہے، تو وہ جو کچھ کما کر لائیں گے ،تو بیٹے کی عیالداری میں معاون ہونے کی وجہ سے وہ سب کچھ بیٹے کا ہی کہلائے گا، جس میں کسی کا دعویٰ کرنا شرعاً درست نہیں۔
کما في الهداية شرح البداية: وتصح بالإيجاب والقبول والقبض (3/ 224)۔
و في الدر المختار: و في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم اھ (5/ 696)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0