کیا فرماتے ہیں حضرات مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت جس کے پہلے شوہر سے دو لڑکے تھے، اس کا انتقال ہوا، اس عورت نے دوسری شادی کر لی، جس سے دو لڑکے اور ایک لڑکی پیدا ہوئی ، لڑکے دونوں فوت ہوئے ،اور وہ لڑکی زندہ ہے، ابھی دوسرے شوہر کا بھی انتقال ہوا، جس کی میراث تقسیم ہوئی ، تو اس عورت نے اپنا حصہ جو آٹھ بنتا ہے، قبضہ میں لے کر یہ تمام حصہ اپنی میراث سے اس لڑکی کو گواہوں کی موجودگی میں ہبہ کر دیا، اس پر اس سے با ضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدیا، اب وہ لڑ کے جو پہلے خاوند سے تھے، اس مال میں شراکت کا دعوی کرتے ہیں، تو شریعت میں اس کا کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ مذکورہ خاتون کا اپنا ذاتی مال و اسباب یا اس سے اپنے خاوند مرحوم کی طرف سے ترکہ میں سے جو حصہ ملا ہے، یہ خالص اس کا حق ہے، اس میں کسی دوسرے کی کوئی شراکت داری نہیں ،پھر جب اس نے اپنی مرضی و خوشی سے بلا جبر و اکراہ کے یہ سب اپنی بیٹی کے قبضہ میں دے دیا ،تو اگرچہ سب اولاد میں برابر تقسیم کرنا اس کے لئے بہتر تھا، مگر یہ دینا شرعاً صحیح اور درست ہو چکا ہے، اب وہ مذکورہ بیٹی ہی اس تمام مال و اسباب کی مالک ہے، اس کے ساتھ شراکت داری کے سلسلہ میں سوتیلے بھائیوں کا مذکور دعویٰ شرعاً درست نہیں،انہیں اپنے مذکور نا جائز دعوی سے احتراز لازم ہے۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0