کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص مرنے سے قبل اپنی ساری وراثت کسی ایک بیٹے کے نام کر دے ،اور بیٹیوں کو محروم کر دے، تو کیا اس کا گناہ اس شخص کو ہو گا یا بیٹے کو بھی ؟اور قبضہ کے بعد اب بیٹے پر لازم ہےکہ بیٹیوں کو بھی حصہ دے یا واجب نہیں ہے؟ اور بیٹیوں کو اب مطالبہ کا حق ہے یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً بھی درست ہے ،تو اس کی وجہ سے شخصِ مذکور اگرچہ بہت سخت گناہ گار ہوا ہے،مگر اس کا ہبہ شرعاً درست ہونے کی وجہ سے مالِ موہوبہ بیٹے کا ملک ہو چکا ہے، اور بہنوں کو مطالبے کا کوئی حق نہیں، البتہ مذکور بیٹا اگر اپنے والد مرحوم کے ساتھ احسان والا معاملہ کرکے اپنی مملوکہ مقبوضہ جائیدار میں بہنوں کو بھی کچھ حصہ دیدے ،تو امید ہے کہ والد مرحوم کے ذمہ گناہ میں تحفیف کا باعث بن کر اس پر ہونے والے عذاب سے سبکدوشی حاصل ہو، اس لئے بیٹے کو چاہیئے کہ اپنی مرضی سے انہیں بھی کچھ دیدے ،اور یہ اس کی طرف سے تبرّع و احسان ہوگا ،اور اسے اپنی بہنوں کے ساتھ احسان والا معاملہ ہی کرنا چاہیئے۔
ففی الدر المختار: و في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم اھ (5/ 696)۔
و في حاشية ابن عابدين: وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص و في التفضيل اھ (4/ 444)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0