محترم و مکرم جناب علماءِ کرام و مفتیانِ عظام کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ کے بار ے میں کہ والدین نے اپنی زندگی میں اپنے بچوں کو الگ الگ مکان ان کے نام کر دیے ، اور اب والدین کے انتقال کے بعد جب جائیداد کا حساب کیا جائیگا، تو یہ مکان جن بچوں کے نام میں آیا کہ ان کا حساب کیا جائیگا یا نہیں؟ براہِ کرم اس مسئلہ کی وضاحت قرآن و سنت کی روشنی میں فرما ئیں ،اور مزید یہ ہے کہ بچوں کو اپنے اپنے مکان میں والدین کی حیات میں ہی والدین کی طرف سے مکمل طور پر حق تصرف حاصل تھا۔
اگر والد یا والدہ نے اپنے مملوکہ مکانات وغیرہ سے ہر بیٹے ، بیٹی، یا بعض کو کچھ دے کر اُس پر انہیں باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دے دیا تھا ،تو اس صورت میں وہ مکانات وغیرہ لینے ، والے کے ہی مملوک و ملکیت ہو گئے ہیں، اور اب والدین کی میراث بھی اتنے حصے کے علاوہ دیگر جائیداد میں جاری ہوگی ۔ جس کی مکمل تفصیل معلوم ہونے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ پہلے کس کا اور بعد میں کس کا انتقال ہوا۔ اور اس وقت اس کے کون کون وارث تھے ؟
ففی الدر المختار: و في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم اھ (5/ 696)۔
و فيه أیضا: (و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. (5/ 688)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0