کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم پانچ (۵) بھائی ہیں، اور ہمارے والد صاحب عالم دین ہیں، اور ہم تین بھائی عالم اور حافظِ قرآن ہیں ، جناب ِعالی میں کاروبار میں نقصان ہونے کی وجہ سے قرض دار ہو گیا ہوں، اور میرے پاس کوئی روزگار نہیں ہے، گذشتہ دس (10) سال سے سخت قسم کی مشکلات کا شکار ہوں، میرے والد صاحب اپنی جائیداد سے مجھے حصہ دینے کے لئے تیار ہیں، مگر میرے بھائی نہ ہی میرے حصہ کی زمین دے رہے ہیں ، نہ ہی میری مدد کرنے کو تیار ہیں، اس صورت میں اگر پریشانی کی وجہ سے مجھے کچھ ہو جاتا ہے ، اور میں قرض ادا نہیں کر سکتا تو میرے والد صاحب اور میرے بھائی لوگوں پر شرعی حوالے سے کیا حکم ہے؟
سائل کے والد کی زندگی میں اس کی جائیداد میں سائل سمیت کسی بھی وارث کا کوئی حق یا حصہ نہیں، البتہ سائل کے والد خود اپنی مرضی سے سائل کی مجبوری کی وجہ سے اسے کچھ دینا چاہیں، تو اس کا انہیں اختیار ہے، مگر تعاون نہ کرنے کی صورت میں اگر سائل کو کچھ ہو جاتا ہے، تو اس کا دنیوی یا اخروی مواخذہ سائل کے والد اور بھائیوں سے نہ ہوگا، البتہ جب والد اسے کچھ دینا چاہ رہے ہیں تو بھائیوں کا اسے روکنا جائز نہیں ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2