احکام وراثت

اگر ایک بھائی کی اولاد اپنی پھوپھیوں کا حقِ میراث ادا کرنا چاہتاہو تو اس کا کیا طریقہ ہوگا؟

فتوی نمبر :
82781
| تاریخ :
2025-05-16
معاملات / ترکات / احکام وراثت

اگر ایک بھائی کی اولاد اپنی پھوپھیوں کا حقِ میراث ادا کرنا چاہتاہو تو اس کا کیا طریقہ ہوگا؟

کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے دادا کا انتقال سن 1960 میں ہوا، اس وقت ان کے وارث چار بیٹے(جن کے نام :ع،و،ا،ق ہیں) اور پانچ بیٹیاں تھیں،(جن کے نام :ش، ع،ذ،ا،م ہیں)ابھی میراث کی تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ ہمارے ایک چچا(ع) انتقال کر گئے ،جن کی شادی نہیں ہوئی تھی،پھر ایک صاحب اولاد پھوپھی (ش) کا انتقال 1973 اور ایک صاحب اولادپھوپھی (ع) کا انتقال 1999 میں ہوا، میرے والد صاحب نے گاؤں میں موجودمیری تین پھوپھیوں(ع،ذ،ا) کو بلا کر کہاتھا کہ میر ے والد کی متروکہ جائیداد میں شریعت کے قانون کے مطابق آپ سب بہنوں کا حق ہے، آپ لوگ اپنا حق مجھ سے لے لیں ،مگر انہوں نے لینے سے انکار کر دیا تھا،اور کہاتھا کہ ہم نے اپنا حق آپ کو بخش دیا ہے،پھر جب جائیداد کی تقسیم کا مرحلہ آیا تو میرے والد صاحب نے دوبارہ میری پھوپھیوں کو بلایا ،اس وقت گاؤں میں صرف میری دو پھوپھیاں(ذ،ا) موجود تھیں اور ان سےحسبِ سابق کہا کہ اس جائیداد میں اللہ کے قانون کے مطابق آ پ لوگوں کا حق ہےآپ وہ حق مجھ سے لے لیں، مگر اس وقت بھی انہوں نے حق لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ہم نے اپنا حق آپ کو بخش دیا ہے، چنانچہ اس وقت یہ پوری جائیداد تین بھائیوں کے درمیان میں تقسیم ہو گئی اور ہر ایک بھائی کو اس کا حصہ معلوم ہو گیا،اس تقسیم کےوقت میری کسی پھوپھی نے اس تقسیم پر اعتراض نہیں کیا اور نہ یہ کہاکہ اس جائیداد میں ہمارا حق ہے ، میراث کی تقسیم کے بعد میرے ایک چچا(ق) کا 1987 میں انتقال ہوا ،جس کی وارث ایک بیوہ رہ گئی تھی ،ان کی کوئی اولاد نہیں تھی، وقت گزرتا چلا گیا اور بعد میں مرحوم چچا کی بیوہ کا حصہ الگ کیے بغیریہ پوری جائیداد دو بھائیوں کے درمیان میں آدھی آدھی تقسیم کر دی گئی،کیونکہ اب صرف دو بھائی رہ گئے تھے میرے والدصاحب(و) اور میرے چچا(ا) کچھ عرصے کے بعد میرے چچانے کہا کہ میں اپنی جائیداد(موروثہ حصہ) بیچنا چاہتا ہوں ،تو چچاکے حصے کو میرے والد صاحب نے ان سے خرید لیا ،لیکن میرے والد صاحب کی خواہش تھی کہ میرے چچا کی جائیداد ان کی ملکیت میں رہے ، تاکہ ان کا تعلق گاؤں سے ختم نہ ہو، اس مقصد کے لیے میرے والد صاحب زمین کی قیمت ادا کرنے میں پس وپیش کرتے رہے کہ شاید میرے چچاپشیمان ہو کر اپنی زمین واپس لے لے، مگر ان کے مسلسل اصرار پر میرے والد صاحب نے ان کی زمین کی قیمت ان کو ادا کر دی اور اس سلسلے میں میری پھوپھیاں بھی برابر اصرار کرتی رہیں کہ آپ بھائی کا حق ان کو دے دیں، چنانچہ میرے والد صاحب نے چچااور پھوپھیوں کے مسلسل اصرار پر زمین کی قیمت ان کو ادا کر دی،اس وقت بھی میری پھوپیوں میں سے کسی نے میرے والد یا چچا سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ اس جائیداد میں ہمارا حق ہے، پہلےآپ ہمارا حق ہمیں دے دیں اور بعد میں خرید و فروخت کا معاملہ کریں، میرے والد صاحب(و) کا انتقال سن 2010 میں ہوا ،مگر اس وقت بھی میری کسی پھوپھی نے ہم سے اپنے حصے کا مطالبہ نہیں کیا ،جس وقت میرے چچاؤں اور میرے والد صاحب کے درمیان میں زمین کی تقسیم ہو رہی تھی اس وقت بھی انہوں نے کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس وقت مطالبہ کیا جب میرے والد صاحب(و) میرے چچا(ا) کو ان کی زمین کی قیمت ادا کررہے تھے، بلکہ اس وقت میری پھوپیاں ہی اصرار کرتی رہیں کہ زمین کی قیمت ان کو دے دی جائے، میرے والد صاحب کے انتقال کے بعد میری ایک پھوپھی(ذ) کا بھی2017میں انتقال ہو گیا ،اب صرف دو پھوپھیاں رہ گئی ہیں،اب ان دونوں پھوپھیوں نے کسی ذریعے سے مجھ سے مطالبہ کیا کہ آپ لوگوں کے جائیداد میں ہمارا حق ہے وہ ہمیں دے دو تو اس سلسلے میں میری ان کےساتھ نشست ہوئی اور میں نے ان سےکہا کہ آپ لوگ مجھ سے اپنا حق مانگ رہی ہیں حالانکہ آپ کے والد صاحب کے انتقال کو 50 سال ہو چکے ہیں، آپ نے ابھی تک مطالبہ نہیں کیا ،پھر جب بھائیوں کے درمیان میں تقسیم ہو رہی تھی اس سے پہلے آپ لوگوں کو دو بار بلایا گیا تھا اس وقت بھی آپ لوگوں نے ہر بار یہی کہا کہ ہم نے اپنا حق بخش دیا ہے ہمیں کچھ نہیں چاہئیے، پھر جب میرے والد صاحب میرے چچا سے زمین خرید رہے تھے اس وقت بھی آپ لوگوں نے یہ نہیں کہا کہ اس زمین میں ہمارا حق ہے، پھر جب میرے والد صاحب میرے چچاکو زمین کا عوض ادا کر رہے تھے تو اس وقت بھی آپ لوگوں نے اپنے کسی حق کا مطالبہ نہیں کیا نہ میرے چچا سے اور نہ میرے والد صاحب سے،بلکہ آپ تو والد صاحب پر اصرار کرتے رہے کہ بھائی کا حق یعنی زمین کی قیمت ان کو دے دی جائے، مگر میری ایک چھوٹی پھوپی نے کہا کہ ہم سے تقسیمِ میراث کے وقت نہیں پوچھا گیا،چنانچہ اس تنازعے کے حل کے لیے میں نے اپنی ایک پھوپھی (م)کو کراچی سے گاؤں بلا لیا اور ان کے سامنے میں نے پوری بات رکھ دی تو اس وقت ان پھوپھیوں نے مجھ سے یہ کہا کہ ہمارا آپ سےجو گلہ شکوہ اور ناراضگی تھی ،وہ یہ تھی کہ آپ نے اپنی بہنوں کو بلا کر ان کو جائیداد میں حصہ دیا تھا اور ہمیں نہیں پوچھا اس لیے ہم نے ناراضگی کی وجہ سے یہ دعوی کیا تھا، اب ہماری ناراضگی ختم ہو گئی ہے اور ہمیں کچھ نہیں چاہئیے ،لیکن میں نے ان سے کہا کہ نہیں آپ کو اپنا حق لینا پڑے گا، لہذا ہماری زمینوں میں زمین کا جو بھی قطعہ آپ کو پسند ہوآپ منتخب کر لیں، میں آپ کو دینے کے لیے تیار ہوں، تو انہوں نے کہا کہ ہم آپ سے کچھ بھی نہیں لینا چاہتے اور ہم نےآپ کے والد کو بھی بخش دیا اورچچاکو بھی بخش دیا، ہمارا ان پراور آپ پر کوئی دعوی نہیں ہے، ہمارا جو گلہ شکوہ تھا آپ کے بلانےسے وہ ختم ہو گیا، لیکن میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگوں کو ضرور حصہ لینا پڑے گا، تاکہ مجھےمستقبل کے حوالے سے اطمینان ہوجائے، تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے،آپ اپنی زمین میں سے ہمیں وہ ٹکڑا دیدیں جوآپ کی ضرورت سے زائد ہو، تو میں نے ان سے کہا کہ میری ضرورت سے زائد ہو یا نہ ہوآپ لوگ جوبھی پسند کریں گےمیں آپ لوگوں کو وہ زمین دے دوں گا،لیکن ان کا اصرار تھا کہ آپ اپنی مرضی سے جو بھی زمین دیں گے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا،چنانچہ میں نے ان کو 30 کنال زمین (جس کے حدود اربعہ اور محل وقوع کو وہ سب بخوبی جانتی تھی اور اس زمین کو انہوں نےدیکھا تھا) کی ان کے سامنے پیشکش کی ،کہ کیا یہ زمین آپ لوگوں کو پسند ہے؟تو انہوں نے کہا: جی بالکل !ہمیں یہ زمین پسند ہے،پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اس زمین کی قیمت کیا ہے ؟تو میں نے ان سے کہا کہ ایک کنال ایک لاکھ روپے کی میں بیچنا چاہ رہا تھا لیکن جو شخص خریدنے کا خواہش مند تھا اس نے نہیں خریدی، البتہ اگر میں خود اس کو اپنے لئے بیچوں توپوری زمین 30 لاکھ روپے سے کم میں نہیں بیچوں گا، چنانچہ یہ سب صورتحال بھی ساری کی ساری ان کے سامنے واضح کر دی تو میری پھوپھیوں نے کہا کہ ٹھیک ہے ،یہ زمین ہمیں پسند ہے ،میں نے کہا کہ آج سے یہ زمین آپ سب(مرحوم وزندہ) پانچ بہنوں کاحصہ ہے ،اگرآپ لوگ چاہتے ہیں تو میں ابھی پٹواری کو بلا کر یہ زمین آپ کے نام کروادوں یا اگرآپ لوگ چاہتی ہیں کہ آپ کے بیٹوں کے نام کر دوں یا اگر آپ کسی تیسرے شخص کو منتخب کر لیتی ہیں تو میں اس کے نام کرانے کے لیے تیار ہوں ،تو انہوں نے کہا کہ نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے،میں نے ان سے کہا کہ آج سے یہ زمین آپ کی ہے،آپ اس زمین کے ساتھ جو بھی چاہیں کریں،آج کے بعد سے میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے،میری پھوپھیوں نے اس موقع پر کہا کہ آپ یہ زمین ہمارے لئے بیچ دیں اور اس کی قیمت ہمیں دےدیں،میں نے کہا ٹھیک ہے میں بھی کوشش کروں گا کہ کوئی گاہک مل جائے ، آپ لوگ بھی کوشش کریں اور ہمارے کسی پھوپھی زاد بھائی کو بھی بتا دیں کہ اگر اس کو کوئی خریدار مل جائے تو اس کو فروخت کر دیں گے،چنانچہ اس دن کے بعد سے میں اس زمین کو فروخت کرنے کی کوشش بھی کرنے لگا ،اس دوران اس زمین سے میں نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ وہ زمین اسی طرح ویران پڑی رہی، یہ معاملہ ہمارے درمیان طے ہوا اور اس پر ایک مرد اور دو عورتیں گواہ موجود ہیں، کچھ عرصے کے بعد میری ان دو پھوپھیوں نے دعوی کیا کہ ہمیں ہمارا حق دے دو تو میں نے ان سے کہا کہ میرے درمیان اور آپ کے درمیان میں جو بات طے ہوئی تھی اور 30 کنال زمین میں نے آپ لوگوں کو دے دی تھی اس کا مکمل اختیارآپ کو دے دیا تھا اورآپ ہی لوگوں نے مجھے کہا تھا کہ اس کو ہمارے لیے فروخت کر دو اور اس بات پر ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بھی موجود ہیں ،میں اسی بات پر قائم ہوں،لیکن میری پھوپھیوں نے اس پورے معاہدے سے انکار کر لیا اور کہا کہ آپ نے ہمارے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ نہیں کیا، حالانکہ میری یہی ایک پھوپھی کراچی سے اسی سلسلے میں گاؤں آئی تھی اور ہماری یہی بات طے ہوئی تھی، ان تمام حالات کے تناظر میں آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ(1) ہمارے اس معاہدے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟اگر اس معاہدے کے گواہ گواہی دیں تو کیا یہ معاہدہ معتبر ہے؟ کیا یہ تخارج ہے؟ (2) کیا اس معاہدے کے بعد میری ان پھوپھیوں کا حق بنتا ہے یا نہیں بنتا؟ سب کا بنتا ہے یا صرف مطالبہ کرنے والیوں کا؟یا ان کا بھی بنتا ہے جو انتقال کر چکی ہے؟ (3)چونکہ یہ جائیداد تین بھائیوں میں تقسیم ہوئی تھی اس میں ایک بھائی کا انتقال ہو گیا تھا اور وہ جائیداد دو بھائیو ں میں تقسیم ہوگئی تھی، پھر چچا کا حصہ بھی میرے والد صاحب نے خرید لیاتھا،اب ان پھوپھیوں کاسارا حصہ صرف ہم ادا کرنے کے پابند ہوں گے یا آدھا حصہ ہم پر اور آدھا حصہ میرے مرحوم چچا کی اولاد پر ہوگا؟یا کوئی اور صورت ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ بیٹوں کی طرح بیٹیاں بھی اپنے والدین کے ترکہ میں سے حصہ میراث کی شرعاً حقدار ہوتی ہیں ، انہیں ان کے حصہ میراث سےمحروم کرنا شرعاً ناجائز اور قابلِ مؤاخذہ جرم ہے ،اور کسی بھی وارث کا شرعی حصہ اس کے چھوڑنے یا فقط معاف کرنے سے ساقط نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئو لہ میں اگر سائل کے والد اور چچا مرحوم نے اپنے والد(سائل کے دادا) کے ترکہ میں سے اپنی بہنوں کو ان کا حصۂ میراث تقسیم کر کے ان کے حوالے کر دینے کے بعد اور پھر قبضہ کر کے اپنے بھائیوں (سائل کے والد اور چچا لوگ ) کو واپس ہبہ نہ کیا ہو یا اپنی بہنوں کو ان کے حصۂ میراث کے عوض کچھ نہ دیا ہو ،تو فقط بہنوں کے یہ کہہ دینے سے کہ ہمیں حصہ نہیں چاہیئے ، ان کا حصۂ میراث ختم نہیں ہوا، بلکہ وہ حسبِ سابق والد مرحوم کے ترکہ میں حصہ دار ہیں ، اور اب ان میں سے جن کا انتقال ہو گیا ہے تو ان کے ورثاء کو ان کا حصہ دیا جائے گا ، لہذا ابتدائی تین بھائیوں کے درمیان کی تقسیم شرعا معتبر نہیں اور نہ ہی وہ تقسیم شدہ حصوں کے مالک بنے تھے ،اسی طرح سائل کے والد نے اس کے چچا سے جو زمین خریدی ہے تو اس میں چچا کا جو حصہ میراث بنتا ہے ، اسی کے بقدر بیع صحیح ہوئی ہے ،اس کے علاوہ زمین میں بیع منعقد نہ ہونے کی وجہ سے سائل کے والد بھی مالک نہیں بنے تھے ،جبکہ سائل نے زندہ پھوپھیوں سے جو معاملہ کیا ہے ، جس کو سائل تخارج سمجھ رہے ہیں ،تو یہ معاملہ بھی اس وقت تخارج بن سکتا تھا کہ جب صرف اپنی پھوپھیوں کے حصص پر تخارج کا معاملہ ہوتا ،حالانکہ سائل نے جیسے سوال میں ذکر کیا ہے کہ ”سب زندہ و مردہ لوگوں کا ہے “ پھوپھیوں کو بہنوں یا ان کے ورثاء کی طرف سے اختیار نہیں تھا ، لہذا سائل اور اس کی چچا زاد اولاد پر لازم ہے کہ دادا مرحوم کے انتقال کے وقت سے ازسر نو تقسیم کر کے موجودہ پھوپھیوں اور مرحوم پھوپھیوں کی اولاد یا اولاد کی اولاد کا جو بھی حق بنتا ہے وہ ادا کر کے مواخذۂ اخروی سے سبکدوشی حاصل کریں اور اگر وہ حق ادا کرنے کے لیے تیار نہ ہوں تو سائل کے پاس تقسیم شرعی کے لحاظ سے جس جس کا جو حق بنتا ہے ،اس پر لازم ہے کہ وہ ادا کرے ،جبکہ بقیہ کا وہ ذمہ دار نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی: یوصیکم اللہ فی أولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین الآیۃ (سورۃ النساء ، آیت 4،)۔
و فی مشکاۃ المصابیح: عن سعید بن زید قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم من أخذ شبرا فإنہ یطوقہ یوم القیامۃ من سبع أرضین ( ج: 1، ص: 254،)۔
و فیہ أیضاً: عن أنس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم من قطع میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ رواہ ابن ماجۃ ج: 1، ص: 266،)۔
و فی الدر المختار: و لو کانت الدار مشترکۃ بینھما باع أحدھما بیتا معینا أو نصیبہ من بیت معین فللآخر أن یبطل البیع الخ ( کتاب الشرکۃ ج:4،ص:302،ط:سعید)۔
وفی رد المحتار: و الحاصل أنہ إن علم أرباب الأموال وجب رد علیھم و إلا فإن علم عین الحرام لا یحل لہ و یتصدق بہ بنیۃ صاحبہ الخ ( ج:5، ص: 99،ط:سعید)۔
و فی الھندیۃ: لايجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منھما كالأجنبي في نصيب صاحبہ الخ (كتاب الشركة، الباب الأول في بيان أنواع الشركة وأركانھا ، الفصل الأول في بيان أنواع الشركة، ج:1 ص:301 ط: رشیدیة)۔
و فیھا أیضا: إذا باع الرجل مال الغیر عندنا یتوقف البیع علی اجازۃ المالک و یشترط لصحۃ الاجازۃ قیام العاقدین و المعقود علیہ و لا یشترط قیام الثمن ان کان من النقود فان کان من العروض یشترط قیامہ أیضا الخ ( کتاب البیوع،الباب الثانی عشر فی أحکام البیع الموقوف ج:3،ص:152،ط: ماجدیۃ)۔
و فی جامع الفصولین: لو قال وارث ترکت حقی لا یبطل حقہ اذ الملک لا یبطل باالترک و الحق یبطل بہ حتی إن احد الغانمین لو قال قبل القسمۃ ترکت حقی بطل حقہ الخ (الفصل الثانی و العشرون فی مسائل الترکۃ ج: 2 ، ص: 40، ط: اسلامی کتب خانۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محسن نثار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82781کی تصدیق کریں
0     273
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات