احکام حج

پرائز بانڈ کی اسکیم کے تحت ملنے والے نفع سے حج عمرہ ادا کرنا

فتوی نمبر :
82931
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

پرائز بانڈ کی اسکیم کے تحت ملنے والے نفع سے حج عمرہ ادا کرنا

محترم مفتی صاحب دامت برکاتہ! السلام علیکم ورحمۃ الله و برکاتہ جناب عالی ! فدوی کو چند سوالات کے جوابات قرآن وسنت کی روشنی میں درکار ہیں۔ جوابات دے کر مشکور و ممنون فرمائیں ۔ (1) پرائز بانڈز جو کہ حکومت کی طرف سے جاری ہوتا ہے ۔ اس کا خریدنا, ادا کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ اور اس کے ذریعے سے نکلنے والے انعام سے حج یا عمرہ یا کسی دوسرے مصرف میں استعمال کرنا کیسا ہے؟
(2) ایک شخص بینک یا کراچی اسٹاک ایکسچینج میں نوکری کرتا ہے ۔ اس کی کمائی کے متعلق کیا حکم ہے ؟ نیز اُس کی کمائی سے دعوت کھانا یا تحفے تحائف لینا صحیح ہے یا نہیں ؟
(3) اگر کوئی شخص گھر میں بجلی کی چوری بذریعہ میٹر یا کنڈا کرے، تاکہ بل کم آئے صحیح ہے یا نہیں؟ اور سب اس جرم میں شریک ہیں یا نہیں اگرچہ بعض اس عمل کی مخالفت کرتے ہوں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱) انعامی بانڈز (پرائز بانڈز) کی اسکیم کے تحت جو نفع دیا جاتا ہے وہ سود ہوتا ہے اس لئے نفع حاصل کرنے کی غرض سے مذکور اسکیم میں شمولیت جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔ اور پھر چونکہ یہ رقم نا جائز اور سودی معاملہ سے حاصل کی گئی ہے۔ اس لئے ایسی رقم سے فریضۂ حج جیسے اہم رکن اسلام کی ادائیگی جائز نہیں۔ اس سے بھی احتراز لازم ہے۔
(۲ ) تنقیح : مذکور دونوں اداروں میں ملازمت کا حکم جدا جدا ہے۔ اس لئے سائل کو جس ادارے کے ملازم کی ملازمت اور تنخواہ کا حکم معلوم کرنا ہے۔ اس کی ملازمت اور کام کی وضاحت کر کے حکمِ شرعی سے متعلق مکرّر سوال کیا جا سکتا ہے۔
(۳ ) سوال میں مذکور تمام صورتیں شرعاً چوری کے حکم میں داخل ہیں جو نا جائز اور حرام ہے ۔ اس لئے متعلقہ گھر والوں کو چاہیئے کہ اپنے مذکور نا جائز عمل سے احتراز کریں ۔ اور اب تک اس عمل کے ذریعے سرکاری خزانے کا جتنا نقصان کیا ہے۔ سرکاری نرخ کے مطابق اتنی رقم متعلقہ سرکاری محکمہ میں جمع کروانا لازم ہے۔ منع کرنے والے اگر واقعۃً اس عمل سے نفرت کرتے ہوں تو امید ہے کہ وہ اس کے گناہ سے محفوظ ہو جائیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافي الدر المختار: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن. (5/ 166)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166)۔
وفي حاشية ابن عابدين: فإن الحج عبادة مركبة من عمل البدن والمال كما قدمناه، ولذا قال في البحر ويجتهد في تحصيل نفقة حلال، فإنه لا يقبل بالنفقة الحرام كما ورد في الحديث اھ (2/ 456)۔
کمافی شرح المجلۃ: انہ یلزم ان یکون الغاصب ضامناً اذا استھلك المغضوب کذالك اذا تلف او ضاع بتعدیہ او بدون تعدیہ یکون ضامناً ایضاً فان کان من القیمیات یلزم الغاصب قیمتہ فی زمان الغصب ومکانہ وان کام من المثلیات یلزمہ اعطاء مثلہ اھ(3/415)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 82931کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات