کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دادا کو قسطوں پر حکومت کی طرف سے زمین آلاٹ ہوئی اس مذکورہ زمین کی اقساط میرے والد محمد عثمان اور میرے تایا عبد الشکور اور میرے دادا محمد شفیع نے مذکورہ زمین ہی سے کما کر ادا کی ، میرے دادا محمد شفیع نے مذکورہ زمین قانونی کاروائی کے مطابق بڑے بیٹے عبد الشکور کے نام کروا دی تھی ، جبکہ میرے دادا محمد شفیع نے کہا تھا کہ بڑا بیٹا عبد الشکور اپنے بھائی اور بہن کو حصۂ خود دیدے گا جبکہ قسط جاری ہی تھی کہ عبد الشکور کا انتقال ہوگیا اور بقایا قسط مذکورہ زمین کی میرے والد محمد عثمان اور میرے دادا محمد شفیع نے مذکورہ زمین سے ہی کماکر ادا کی ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ زمین کس کی ہوگی ؟ عبد الشکور کی وفات کے وقت ورثاء میں والد ، والدہ ، بھائی ، بہن،بیوہ عبد الشکور ،اور دو بیٹیاں عبدالشکور کی حیات تھیں ، قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں یہ زمین کس ہوگی اور کیسے تقسیم ہوگی ؟
صورت مسئولہ میں مذکور ہ زمین اگر سائل کے دادا نے ہی حکومت سے قسطوں پر خریدی ہو اور سائل کے والد اور تایا نے اپنے والد کے ساتھ مل کر اس زمین کی آمدنی سے قسطوں کی ادائیگی کی ہو تو یہ ان کی طرف سے اپنے والد کے ساتھ تعاون شمار ہوگا اور یہ زمین سائل کے دادا کی ملکیت کہلائے گی ،جبکہ محض سرکاری کاغذات میں کوئی چیز کسی کے نام کردینے سے وہ اس کی ملکیت نہیں بنتی جب تک اسے اس پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ نہ دیا جائے لہذا اگر سائل کے دادا نے مذکورہ زمین فقط سرکاری کاغذات میں اپنے بڑے بیٹے کے نام کی ہو ،ان کو اس پر باقاعدہ مالکانہ حقوق اور قبضہ نہ دیا ہو ( جیساکہ سوال سے بظاہر یہی معلوم ہورہا ہے ) تو فقط نام کرنے سے سائل کے تایا اس زمین کے مالک نہیں بنے بلکہ وہ بدستور سائل کے دادا کی ملکیت میں ہے اور جب تک وہ حیات ہیں تو ان کو اس میں مکمل تصرف کا حق حاصل ہے ۔
کما فی الشامیۃ: لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له (325/4)
وفی تنقيح الفتاوى الحامدية : وأما قول علمائنا أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء ثم اجتمع لهما مال يكون كله للأب إذا كان الابن في عياله فهو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط منها اتحاد الصنعة وعدم مال سابق لهما وكون الابن في عيال أبيه فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب وانظر إلى ما عللوا به المسألة من قولهم؛ لأن الابن إذا كان في عيال الأب يكون معينا له فيما يضع فمدار الحكم على ثبوت كونه معينا له فيه فاعلم ذلك (18/2)
وفی الشامیۃ: "بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة (وقوله: بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لايكون هبةً." (689/5)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0