کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی جائیداد بیس لاکھ پچاس ہزار میں فروخت کی ہے،اور اب میں اس کو اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہوں، میری اولاد میں آٹھ لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں، اور میری اہلیہ بھی حیات ہے۔
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ تقسیم کس طرح ہوگی، اور اولاد میں سے ہر ایک کو کتنا حصہ ملےگا؟ قرآن وسنت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں اپنے مال و جائیداد وغیرہ کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے، اب اگر کوئی اپنی صحت والی زندگی میں بلاکسی جبر واکراہ کے محض اپنی مرضی اور خوشی سے اپنا مال وجائیداد وغیرہ ورثاء میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً یہ جائز ہے اور یہ ہبہ(گفٹ) کہلاتا ہے۔ جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک محتاط اندازے کے موافق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ تمام مال وجائیداد اپنی اولاد پر برابر تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے، تا کہ یہ ہبہ شرعاً بھی درست اور تام ہو سکے، محض کاغذوں میں نام کرنا کافی نہیں، پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو یکساں اور برابر رکھے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں، کسی کو زیادہ کسی کو کم نہ دے، البتہ کسی کی زیادہ خدمت گزاری ، محتاجیگی یا دین داری وغیرہ کی بناء پر اُسے دوسرے ورثاء کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے، مگر بلاوجہ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے۔
کما فی الفتاوى الهندية: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا وروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى اھ (4/ 391)۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: لا خلاف بين جمهور العلماء في استحباب التسوية في العطاء بين الأولاد، وكراهة التفضيل بينهم في حال الصحة كما تقدم (5/ 4012)۔
و في حاشية ابن عابدين: ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى (4/ 444)۔
و في الدر المختار: في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى (5/ 696)۔
و في الدر المختار؛ (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) (5/ 690)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2