کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کی دو بیویاں ہوں ،اور پہلی بیوی اور اس کے بچوں کے ساتھ مل کر شوہر جائیداد بناتا ہے، اور کچھ عرصے بعد ان کو الگ کر دیتا ہے، اور دوسری اہلیہ اور اس کے بچوں کو ساتھ رکھ لیتا اور جائیداد بھی وہی استعمال کرتے ہیں اور پہلے بیوی بچوں کو اس جائیداد سے محروم کر دیتے ہیں، آخر میں وہ شوہر فالج کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے، اور جائیداد دوسری بیوی بچوں کے نام کر دیتا ہے، شریعت کی روشنی میں شوہر کا یہ فیصلہ کہاں تک مؤثر ہے؟ برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
اگرچہ اپنی صحت والی زندگی میں ہر شخص اپنے مال وجائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، جسے جتنا چاہے دے سکتا ہے، مگر شخصِ مذکور کا اپنی پہلی بیوی اور اس کی اولاد کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم رکھنا اور سارا مال ومتاع دوسری بیوی اور اس کی اولاد کو دیدینا بلاشبہ گناہ کی بات ہے۔ اور اس طرح بلا تقسیم وقبض محض کاغذات میں لکھ دینے سے وہ شرعاً مالک بھی نہیں بنے اور وہ اپنے اس طرزِ عمل کی وجہ سے گنہگار ہوا ہے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی پہلی اولاد ( جس نے اس جائیداد وغیرہ کے حصول میں والد کی معاونت بھی کی ہے ا) کو بھی برابر حصہ دے، تاکہ مواخذۂ اخروی سے سبکدوشی ہو سکے۔
ففی الدر المختار: وقال على الفريضة الشرعية قسم على ذكورهم وإناثهم بالسوية هو المختار (4/ 444)۔
و في الدر المختار: و في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى (5/ 696)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0